صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کے لیے پارلیمان کو اپنا بھرپور کردارادا کرنا ہوگا، مثبت راستے پر چلنے کے لیے حکومتی اقدامات قابل تحسین ہیں، ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کو مثبت راستے پر گامزن کرنے پر حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں، حکومت کے مثبت اقدامات کے نتیجے میں ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، معیشت مستحکم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں برائے راست سرمایہ کاری بڑھی ہے، اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے 12 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے، اب ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پر بھرپورتوجہ دینی ہے، عوام نے پارلیمان سے امیدیں وابستہ کررکھی ہیں، عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کے لیے پارلیمان کو مل کر بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، ہمیں پسماندہ علاقوں کی ترقی پر بھرپور توجہ دینی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے، ٹیکس کے نظام میں مزید بہتر لانی ہوگی۔
صدر مملکت نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے معیشت کی بہتری کے واضح اشاریے سامنے آ چکے ہیں، پالیسیریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ یقیناً خوش آئند بات ہے، مزید آگےبڑھنے کے لیے ہمیں مزید بہتراقدامات کرنا ہوں گے، اس کے لیے ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہوگا، ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پربھرپور توجہ دینا ہوگی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے یکجہتی اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے، بہتر مستقبل تبھی ممکن ہو گا جب ملک میں سیاسی استحکام ہو گا اور یکجہتی ہوگی۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہماری انتظامی مشینری میں ارتقائی سوچ کی کمی اور آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، ایوان گورننس، خدمات کی فراہمی کے نتائج کو ازسرِ نو ترتیب دینے میں اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزارتوں کو بھی اپنے وژن اور مقاصد کو ازسرنو متعین کرنے کی ضرورت ہے، وزارتیں ادراک کریں کہ عوام کو درپیش اہم مسائل کو ایک مقررہ مدت میں حل کرنا ہوگا، جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے عوام کو فوائد پہنچانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، جمہوریت میں کچھ دینے اور لینے کی ضرورت ہوتی ہے، اجتماعی اہداف پر کام کرنے کے لیے اس پارلیمنٹ سے بہتر اور کون سی جگہ ہو سکتی ہے؟
صدر مملکت نے کہا کہ منتخب نمائندوں کے طور پر، آپ قوم کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرتے ہیں، پارلیمانی کام کے بارے میں سوچیں تو تنگ نظری سے بالاتر ہو کر سوچیں، اراکین پارلیمنٹ اتحاد اور اتفاق کا سوچیں جس کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے لوگوں کو بااختیار بنائیں، اتفاق رائے سے قومی اہمیت کے فیصلے کریں، معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں، سماجی اور اقتصادی انصاف کو فروغ دیں، نظام میں انصاف اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اسے مساوی طور پر ترقی دینا چاہیے، یہ صدی بہت سے نئے عالمی چیلنجز کی صدی ہوگی، ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے عوام اپنے مختلف خطوں اور وسائل کے ساتھ قومی ترقی میں شامل ہوں۔
صدر مملکت نے کہا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ ایک مضبوط پاکستان وہ ہے جہاں ترقی کے ثمرات تمام صوبوں اور شہریوں کو برابری کی سطح پر پہنچیں، ہمیں ہمہ گیر اور یکساں ترقی کو فروغ دینے کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے، یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی صوبہ، کوئی ضلع اور کوئی گاؤں پیچھے نہ رہے، ایوان یقینی بنائے کہ ترقی صرف چند منتخب علاقوں تک محدود نہ ہو بلکہ ملک کے ہر کونے تک پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ نظر انداز اور پسماندہ علاقوں کو وفاقی حکومت کی فوری توجہ کی ضرورت ہے، علاقوں کا احساس محرومی دور کرنے کے لیے انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ ایک ایسا فورم ہے جہاں کسی بھی احساس محرومی کو تعمیری انداز میں دور کیا جا سکتا ہے، ایگزیکٹو برانچ سیاسی ہمدردی کے ساتھ احساس محرومی کا ازالہ بھی کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ملک کے طور پر آگے بڑھنے کے لیے ٹیکس نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے، ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ میں اصلاحات اور توسیع کرنی چاہیے، پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر زیادہ بوجھ ڈالنے کی بجائے یہ امر یقینی بنائیں کہ ہر اہل ٹیکس دہندہ قوم کی تعمیر میں حصہ لے، پاکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع لانا چاہیے۔
صدر مملکت نے کہا کہ قابل قدراشیا اور خدمات پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے، ہمیں اپنی آئی ٹی انڈسٹری کو معاشی ترقی کا کلیدی محرک بنانا ہوگا، ہمیں ڈیجیٹل اورانفارمیشن ہائی ویز کی تعمیر، آئی ٹی پارکس میں سرمایہ کاری، انٹرنیٹ تک رسائی اور رفتار بڑھانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے پائیدار سپورٹ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں قرضوں تک رسائی، طریقہ کار اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا، ایسی پالیسیاں بنانا ہوگی جو نوجوانوں کے شروع کردہ کاروبار کو فروغ دیں، ہمارے نوجوانوں کو ایس ایم ای پر مرکوز پروگراموں، ہنر مندی کے منصوبوں اور آسان قرضہ اسکیموں کے ذریعے کاروباری دنیا میں داخل ہونے کی ترغیب دینی چاہیے، ایوان پر زور دیتا ہوں کہ وہ کاروبار کرنے میں آسانی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
صدر مملکت نے کہا کہ سرمایہ کاروں، چھوٹے کاروباروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کیلئے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بنانا چاہیے، آج عام آدمی، مزدور اور تنخواہ دار طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، ہمارے شہری مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اس پارلیمنٹ اور حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں، حکومت کو آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کم کرنے اور توانائی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہییں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ ہمیں ملازمتوں میں کمی سے بچنا چاہیے، ہماری توجہ نوکریاں پیدا کرنے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے نتیجہ استعمال پر مرکوز ہونی چاہیے، خواتین کی زندگی کے ہر شعبے میں نمائندگی کم ہے، مختلف شعبوں میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھا کر انہیں بااختیار بنانا ضروری ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ حکومت اور پارلیمنٹ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق کمزور طبقے کی خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنائے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک اہم لائف لائن ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رسائی اور رقم کو مزید بڑھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ آئندہ بجٹ میں تعلیمی شعبے کے لیے میکرو لیول پر مختص رقم میں اضافہ کریں، اسکالرشپ اور مالی امداد کے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مزید مواقع فراہم کریں، اپنے تمام شہریوں کے لیے معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی بڑھانے اور غورکرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کے لیے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں، ہمیں ایک مضبوط اور موثر ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، روڈ نیٹ ورکس اور جدید ریلوے کی ضرورت ہے، گلگت بلتستان اور بلوچستان روابط اور ترقی کے حوالے سے خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں، بلوچستان اور گلگت بلتستان پاکستان کی سٹریٹجک سرحدیں ہیں، ہماری قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ ہمارے روابط اور مواصلات کے وژن میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا چاہیے تاکہ پاکستان بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک گیٹ وے کے طور پر کام کر سکے۔
صدر آصف علی زرداری قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے آغاز کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پارلیمنٹ ہاؤس میں مہمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ایک
نکاتی ایجنڈا اجلاس صدر کے خطاب کے بعد اختتام پذیر ہو جائے گا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا خطاب شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی ارکان نے ڈیسک بجاکر احتجاج شروع کردیا، شدید نعرے بازی کے باعث صدر نے کانوں پر ہیڈ فون لگا کر اپنی تقریر جاری رکھی۔
صحافیوں کو محدود تعداد میں دعوت نامے بھی جاری کیے گئے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہان، غیر ملکی سفیر، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ بھی مشترکہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
خبر آپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔