ٹیکنالوجی ٹائیکون ’گوگل‘ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ’گوگل والٹ ایپ‘ بدھ 12 مارچ سے لانچ کر دی گئی ہے۔
ٹیک کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گوگل والٹ ایپ‘ صارفین کو ایک محفوظ، آسان اور زیادہ مددگار ڈیجیٹل ادائیگی کا تجربہ فراہم کرے گی، اس کے علاوہ یہ ڈیجیٹل آئٹمز جیسے لائلٹی کارڈز اور بورڈنگ پاسز کو بھی سپورٹ کرے گی۔ صارفین گوگل پلے اسٹور کے ذریعے ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرکے آغاز کرسکتے ہیں۔
گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا ہے کہ ’پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا طریقہ کار تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ڈیجیٹل لین دین کو اپنانے کے ساتھ گوگل والٹ ایپ ادائیگیوں، خریداری اور سفر کرنے کا ایک محفوظ، ہموار اور مؤثر طریقہ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اس سے پاکستانیوں کو اسٹورز میں ٹیپ اینڈ پے کرنے، بلا تعطل آن لائن چیک آؤٹ کرنے اور سفر کے دوران اپنے بورڈنگ پاسز تک آسانی سے رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ’گوگل والٹ ایپ‘ آپ جہاں بھی ہوں گے ہر چیز کو ایک ہی جگہ پر محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرے گی، اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس ایپ کی لانچنگ پاکستان میں اقتصادی مواقع فراہم کرنے میں زیادہ مدد گار ثابت ہوگی۔
گوگل اعلان کے مطابق ’گوگل والٹ ایپ‘ بدھ 12 مارچ سے بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، فیصل بینک نور، ایچ بی ایل، جاز کیش، میزان بینک اور یو بی ایل کے کارڈ ہولڈرز اپنے کارڈز کو گوگل والٹ ایپ کے ساتھ منسلک کر سکیں گے اور اپنے اینڈرائیڈ فونز یا ویئر او ایس ڈیوائسز کے ذریعے ادائیگی کر سکیں گے۔
مزید یہ کہ الائیڈ بینک، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک، جے ایس بینک اور زین ڈیجیٹل کے کارڈ ہولڈرز جلد ہی اپنے کارڈز گوگل والٹ ایپ میں شامل کرسکیں گے۔ تاجر حضرات ’گوگل والٹ ایپ‘ کے ذریعے آن لائن ادائیگیاں کر سکیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنیاں اور بڑے برانڈز جیسے اونک، گل احمد، ثنا سفیناز، جے اور کے الیکٹرک بھی گوگل پے کے ساتھ انضمام کر سکیں گے۔ اسی طرح بیان کے مطابق صارفین اپنے گوگل والٹ ایپ میں بورڈنگ پاس ، بسز، ٹرین اور ایونٹ کے ڈیجیٹل ٹکٹ کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔
بیان کے مطابق پرائیویسی اور سیکیورٹی گوگل والٹ ایپ کی اولین ترجیح ہوگی، ادائیگی کرتے وقت گوگل والٹ ایپ ایک متبادل کارڈ نمبر (ایک ٹوکن) استعمال کرے گی، جسے ڈیوائس کے ذریعے مخصوص کیا جائے گا، یہ سیکیورٹی کوڈ سے وابستہ ہوگا جو ہر ایک ٹرانزیکشن کے ساتھ تبدیل ہوگا۔
بینکوں کو بھی صارف کی ڈیوائس میں کارڈ شامل کرنے سے پہلے تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے اور اسکرین لاک کی حفاظت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صرف صارف ہی والٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔