شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کی کال آئی تو ان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل ضرور جائوں گا۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں واپسی کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن اگر عمران خان کی کال آئی تو ان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل ضرور جائوں گا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ انہوں نے جو نکالا ہے، اب وہ خود ہی سوچیں، اب نکالا ہواواپس نہیں آرہا۔ اڈیالہ جیل سے عمران خان سے اگر ملاقات کیلئے بلاوا آتا ہے تو میں عمران خان کے پاس جائوں گا، باقی یہ سارے جتنے لوگ ہیں، کسی قطاریا گنتی میں شمار ہی نہیں کرتا ہوں۔
شیر افضل مروت نے ایک اور بیان میں کہا کہ عمران خان کا نظریہ اور ان سے محبت ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے۔ آج اسمبلی میں تقریر کے بعد پی ٹی آئی کے دوستوں نے گلے لگایا ، عمران خان کے نکالے جانے کے بعد میں تین ماہ کیلئے بائیکاٹ پر ہوں۔ اس دوران اگر عمران خان مجھے بلائیںگے اور سنیں گے ، میری داد رسی کی جائیگی تو اس کے بعد وہ جو حکم دیں گے اس کی تعمیل کروں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عید الفطر کے بعد تحریک انصاف دھرنا دینے جائیگی، 26نومبر کے واقعات کے بعد احتجاج کرنا، ریلی نکالنا، دھرنا دینا اس طرح ہے کہ آپ نے سب کو تیار کرنا ہے کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے،لہذا ابھی تک کوئی عمل کام ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔تاہم میری دعائیں پی ٹی آئی کیساتھ ہیں اور رہیں گی کہ یہ کامیاب ہوں۔ پارٹی کو میری جب بھی ضرورت ہوگی تو میں جائوں گا۔