اسپین میں مسافر ایک ایسی بس میں سفر کرنے کے قابل ہو گئے ہیں، جس کا کوئی ڈرائیور نہیں ہے، یہ بغیر ڈرائیور کے آپ کو اپنی منزل پر محفوظ اور بروقت پہنچائے گی۔
بس اپنے مسافروں کو لے کر خود ہی ایک اسٹاپ سے دوسرے اسٹاپ پر پہنچتی ہے، لین تبدیل کرنے سے پہلے باقاعدہ خود بریک لگاتی ہے اور بارسلونا کے سب سے فیشن ایبل بلیوارڈز میں سفر کو آسان اور محفوظ بناتی ہے۔
رینالٹ گروپ نے اسپین کے مشہور سیاحتی مقام بارسلونا میں ایک ایسی بس متعارف کروائی ہے جس کا کوئی ڈرائیور نہیں ہے۔ یہ بس خود کار طریقے سے 2.2 کلومیٹر کے سرکلر روٹ پر چل رہی ہے جس کے چار اسٹاپ ہسپانوی شہر کے وسط میں ہیں۔
اسپین میں فرانسیسی کار ساز کمپنی نے پروٹوٹائپ بس بنانے کے لیے خودکار گاڑیوں میں مہارت رکھنے والی کمپنی وی رائیڈ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ اس نے گزشتہ سال فرنچ اوپن کے مقام پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی بس لانچ کی تھی، لیکن اب اس نے اسپین کے شمالی مشرقی شہر بارسلونا میں اسے لانچ کرنے جا رہی ہے۔ وہ اس بس سروس کو ویلنس، فرانس اور زیورخ ہوائی اڈے تک چلانے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں۔ سان فرانسسکو سے ٹوکیو تک دیگر شہروں میں کمپنیوں کی جانب سے بغیر ڈرائیور والی ٹیکسیوں اور بسوں کو آزمایا جا رہا ہے۔
لیکن رینالٹ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ عام طور پر بغیر ڈرائیور والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں امریکا اور چین سے پیچھے ہے، جہاں کمپنیاں اس شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے سخت مقابلہ کر رہی ہیں۔
رینالٹ گروپ کے خودکار نقل و حرکت کے منصوبوں کے سربراہ پیٹرک ورگلاس نے میڈیا کو بتایا کہ ’امریکا خودکار گاڑیوں کے بہت سارے تجربات کر رہا ہے‘، چین میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ یہ کام یورپ میں بھی ہو سکتا ہے۔
الیکٹرک بس بغیر ریچارج کے 120 کلومیٹر تک چل سکتی ہے اور 70 کلومیٹر فی گھنٹہ سفر کر سکتی ہے۔ یہ 10 کیمروں اور 8 لیڈرز (سینسر سرے) سے لیس ہے تاکہ اسے کاروں، موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں سے بھری سڑکوں پر جانے میں مدد ملے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بس بارسلونا جیسے مصروف شہر سے گزرتے ہوئے ایک مخصوص راستے پر محفوظ طریقے سے چلانے کے قابل ہے۔