حکومت پنجاب کا نومولود بچوں کی مائوں اور حاملہ خواتین کو 23 ہزار روپے دینے کا اعلان

پنجاب کی حکومت نے نومولود بچوں کی مائوں اور حاملہ خواتین کو 23 ہزار روپے دینے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت ’ آغوش پروگرام ‘کے تحت نومولود بچوں کی مائوں اور حاملہ خواتین کو 23ہزار روپے ادا کرے گی۔ صوبائی حکومت نے پہلے مرحلے میں ڈیرہ غازی خان ، راجن پور ، رحیم یار خان اور میانوالی سمیت صوبے کے 13اضلاع کو شامل کیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ امدادی رقم حاملہ خاتون کو بچے کی پیدائش تک متواتر طبی معائنے کے وزٹ کر دی جائیگی۔

مزید پڑھیں: حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن عید سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب صوبہ پنجاب کے 59 فیصد عوام نے وزیر اعلیٰ ممریم نواز کی کارکردگی کو سراہا ہے، 62 فیصد عوام نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر اطمینان جبکہ 17 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کے کے مطابق پنجاب کے ہر 10 میں سے 6 رہائشی وزیراعلیٰ مریم نواز اور ان کی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 3 سے 18 فروری 2025 کے درمیان کیے گئے آئی پی او آر سروے میں پنجاب کے تمام 36 اضلاع سے 6 ہزار سے زیادہ افراد کے جوابات جمع کیے گئے۔

سروے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ 62 فیصد جواب دہندگان نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ 17 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ 21 فیصد نے حکومت کی کارکردگی کو قابل قبول قرار دیا جبکہ ایک فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سروے میں 59 فیصد شہریوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی سے مکمل اطمینان کا اظہار کیا جبکہ 24 فیصد نے کارکردگی کو قابل قبول قرار دیا۔ تاہم 16 فیصد شہریوں نے مریم نواز کی کارکردگی کو انتہائی خراب قرار دیا۔ ایک فیصد نے اس سوال پر کوئی رائے دینے سے گریز کیا۔

جس شعبے میں شہری صوبائی حکومت کی کارکردگی سے سب سے زیادہ مطمئن تھے وہ تعلیم تھا۔ 73 فیصد نے کہا کہ کارکردگی اچھی ہے جبکہ 25 فیصد نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ صحت کے شعبے میں 68 فیصد نے کارکردگی کو اچھا جبکہ 30 فیصد نے اسے خراب قرار دیا۔ انفراسٹرکچر میں 66 فیصد کارکردگی سے مطمئن تھے جبکہ 33 فیصد غیر مطمئن تھے۔ امن عامہ کے بارے میں 67 فیصد نے کہا کہ اس حوالے سے حکومتی کارکردگی اچھی ہے جبکہ 31 فیصد نے اسے انتہائی خراب کہا۔ تاہم سروے میں حصہ لینے والے 63 فیصد شہری روزگار کے مواقعوں میں کمی پر صوبائی حکومت سے ناراض تھے۔ 36 فیصد نے اس شعبے میں کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔سر

وے کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں گورننس کے سوال پر 57 فیصد شہریوں نے کہا کہ گورننس میں بہتری آئی ہے۔ 17 فیصد نے کہا کہ صورتحال مزید خراب ہوئی ہے جبکہ 24 فیصد نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں گورننس میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ آئی پی او آر نے شہریوں سے مزید پوچھا کہ کیا وزیراعلیٰ صوبے کے عوامی اور گورننس کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں ہیں تو 57 فیصد نے ہاں میں جواب دیا۔ تاہم 36 فیصد نے اسے اس میں ناکامی قرار دیا۔ 7 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *