اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکیل مشال یوسفزئی کو اڈیالہ جیل میں داخلے سے روکنے کے معاملے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجازاسحاق خان نے ڈپٹی رجسٹرار سلطان محمود کی سرزنش کرتے ہوئے پوچھا کہ کس کے کہنے پر’کاز لسٹ‘ منسوخ کی گئی۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکیل مشال یوسفزئی کو اڈیالہ جیل میں داخلے سے روکنے کے معاملے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز اسحاق خان نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل سلطان محمود کو طلب کر کے پوچھا کہ کیس کو دوسرے بینچ میں منتقل کرنے کی درخواست کس قانون کے تحت دائر کی گئی اور آیا ریاست جج کی مرضی کے بغیر کیس لارجر بینچ کو بھیجنے کی حمایت کرتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز اسحاق نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے کے بجائے تو آپ میری عدالت کی بنیاد میں بارود رکھ کراُڑا دیتے۔
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کس کے کہنے پر کاز لسٹ منسوخ کی گئی، جس پر ڈپٹی رجسٹرار نے جواب دیا کہ انہیں چیف جسٹس آفس سے ہدایات ملی تھیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے عدالت نے جیل حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ مشال یوسفزئی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیں اور ان سے وکالت نامے پر دستخط کروانے کی سہولت فراہم کریں۔ عدالت نے 18 جنوری کی جیل کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور وکلا کی فہرست بھی مانگ رکھی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ یہ سب کچھ جہاں سے ہو رہا ہے ہم اس کا نام بھی نہیں لے سکتے، گائیڈڈ میزائل آپ کی طرف جا رہا تھا، وہ اب ہماری طرف آ رہا ہے، ہمیں تو اپنے ادارےکی فکر ہو گئی، کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔