شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو قومی سلامتی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کرنی چاہئے تھی۔
شیر افضل مروت نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بھی ہٹ دھرمی دکھائی اور پی ٹی آئی رہنمائوں کی عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی اور تحریک انصاف بھی ٹریپ ہوئی، یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ پی ٹی آئی قومی سلامتی کے اجلاس میں آئے اور اپنا موقف رکھے۔
شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں بھی کروائی گئی تو انہیں اجلاس میں جانا چاہیے تھا۔ آپ کی پارلیمنٹری کمیٹی نے آپکو سفارشات دیں کہ اجلاس میں شامل ہونا چاہئے ، آپ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو 14 لوگوں کی فہرست بھی بھجوائی اور آخر میں آپ کہتے ہیں کہ عمران خان سے اجازت لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان قطعاََ نہیں کہتے کہ اس اچھے عمل میں حصہ دار نہ بنیں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے ہمیں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ 22 لاکھ افغان شہریوں کو 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، تو آپ جب یہ کریں گے تو کیا افغانستان آرام سے بیٹھے گا؟۔ 60 سال سے یہ لوگ پاکستان میں رہ رہے ہیں اور آپ ان کو کہہ رہے ہیں کہ نکلیں۔ یہ مرغیاں نہیں خلقِ خدا ہیں ، ان کے خاندان یہاں رہ رہے ہیں۔