26 نومبر احتجاج کے کیس سے متعلق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی ایم این اے زرتاج گل اور پارٹی رہنما را جہ بشارت کو ریلیف دے دیا ۔
تفصیلات کے مطابق دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع اور ضمانت منظور کر لی گئی ۔ زرتاج گل کی جانب سے دائر درخواست پرانسداد دہشت گردی کورٹ کے جج طاہر عباس سپرا نے ضمانت قبل از گرفتاری پر کیس کی سماعت کی ۔
زرتاج گل اپنی وکیل آمنہ علی ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں۔ عدالت نے زرتاج گل کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کرتے ہوئے متعلقہ کیس میں 5 مئی 2025تک پی ٹی آئی ایم این اے کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔
کیس کی اگلی سماعت پر زرتاج گل کے وکلاء درخواست ضمانت پر دلائل دیں گے، واضح رہے کہ زرتاج گل کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت نے 4 کیسز میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے 5 مئی تک راجہ بشارت کی 5، 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی ہے ۔ جج طاہر عباس سپر ا نے ہدایت کی کہ کیس کی اگلی سماعت سے پہلے تفتیش میں شامل ہو جائیں، اگر آپ شامل تفتیش نہیں ہوتے تو اگلی سماعت پر تمام ملزمان کی ضمانتوں پر تاریخ پڑ جائے گی۔
دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 5 مئی تک توسیع کر دی۔ بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ اور کیس میں شامل تفتیش ہونے کیلئے بھی درخواست دائر کی گئی تھی ۔
عدالت نے کہا کہ میں آج تفتیشی کو ڈائریکشن کروں گا کہ شامل تفتیش کریں۔ کورٹ میں بشریٰ بی بی کی جانب سے انصر کیانی ایڈووکیٹ اور شمسہ کیانی ایڈووکیٹ حاضر ہوئے ، بشریٰ بی بی کیخلاف تھانہ کوہسار میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔