صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی امن و استحکام کی ہے، بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا ہے، کشمیری عوام بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں، ہمارا عزم ہے کہ ہم فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے عزائم ناکام بنائیں گے۔
اتوار کو ’یوم پاکستان‘ کے موقع پر ایوان صدر میں ملٹری پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک وطن عزیز کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن علامہ اقبالؒ کا خواب قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد نے پورا کر دکھایا تھا اور ملک پاکستان وجود میں آیا، اس مملکت کی حفاظت افواج پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے یقینی بنائی، قوم شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کا مقصد ایک ایسے ملک کا قیام تھا جو امن و استحکام اور مذہبی آزادیوں کے ساتھ آئین و قانون کی حکمرانی ہو، یہ ملک بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، آج اس آزادی کا تحفظ اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ففتھ جنریشن وارفیئر سب سے بڑا چیلنج ہے، اس وقت پاکستان کو بہت سے جیوپولیٹیکل مسائل کا سامنا ہے، نوجوان نسل میں نفرت اور مایوسی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یاد رکھیں ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ نوجوانوں کو ملک پاکستان کے لیے اپنے آباواجداد کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی و اندرونی سازشوں کے باوجود پاکستان کی تعمیر کرتے رہیں گے، دہشتگرد تنظیموں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے،فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے عزائم ناکام بنائیں گے، اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک میں امن و استحکام کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، ہم نے اندرونی و بیرونی دہشتگردی کا بھرپورمقابلہ کرنا ہے۔
صدر مملکت نے کہاکہ 23 مارچ پوری قوم کے لیے انتہائی اہم ہے، اس دن کا تقاضا یہی ہے کہ ہم پاکستان کو ترقی یافتہ انصاف پر مبنی ملک بنائیں، ہمارے سامنے سفرآسان نہیں لیکن نا ممکن بھی نہیں ہے، ہمیں مل کر ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں آئین و قانون کی حکمرانی ہو، تاریخ گواہ ہے کہ ہماری افواج نے اس ملک کی سلامتی کے لیے کبھی بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ آج کا دن لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔
صدر مملکت نے اپنی تقریر میں بھارت کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’بھارت ہمیشہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھتا ہے‘ لیکن ہماری خارجہ پالیسی امن و استحکام پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، پاکستان آج کے دن اپنے اس عزم کا پھراعادہ کرتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی بھرپور اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گا۔ آج کے دن کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھول سکتے۔
انہوں نے اپنے اس عزم کا پھر اعادہ کیا کہ پاکستان دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائے گا، صدر مملکت نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی اور کشمیری عوام کی آزادی کے لیے عملی اقدامات
اٹھائے، انہوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری فلسطنیوں کی نسل کشی رکوانے کے لیے فوری فیصلہ کن اقدامات کرے۔
صدر آصف علی زرداری نے ہر پاکستانی پر زور دیا کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر تقسیم اور منفی سوچ کو مسترد کرے اور ایک خوشحال، جامع اور منصفانہ پاکستان کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرے۔ انہوں نے پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہی جذبہ جس کی وجہ سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا وہ ہمیں روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام، ان کی لچک، محنت اور حب الوطنی میں ہے جنہوں نے اس قوم کو مشکل ترین وقت سے گزارا ہے۔ صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی دنیا میں پاکستان کو پیچیدہ حقائق سے نمٹنا ہوگا، معاشی دباؤ سے نمٹنا ہوگا اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ درست پالیسیوں، مخلصانہ کوششوں اور قومی اتحاد سے پاکستان معاشی خوشحالی، سماجی انصاف کو برقرار رکھنے اور دنیا بھر میں اقوام میں اپنا جائز مقام حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی متاثر کن قیادت کی رہنمائی میں انہوں نے ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جہاں مسلمان وقار، آزادی اور عزت نفس کے ساتھ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال یوم پاکستان رمضان المبارک میں منایا جاتا ہے جو گہری روحانی عکاسی، نظم و ضبط اور ایمان کی تجدید کا مہینہ ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک ایسا وقت ہے جو ہمارے اجتماعی عزم کو تقویت دیتا ہے اور قربانی اور استقامت کی اقدار کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے ملک کی بنیاد میں سرایت کر چکے ہیں۔ گزشتہ سال یوم آزادی کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے 104 پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو ان کی خدمات، بہترین کارکردگی اور اپنے متعلقہ شعبوں میں قربانیوں کے اعتراف میں قومی ایوارڈدینے کا اعلان کیا تھا۔ ایوارڈز کا اعلان پاکستان کے 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر کیا گیا تھا اور 23 مارچ (آج) کو یوم پاکستان کے موقع پر ایک پروقار تقریب میں یہ ایوارڈ ان افراد کو پیش کیا جائے گا۔