خیبرپختونخوا میں ہوائی فائرنگ، شادی سے چند دن قبل پشاور کا نوجوان بھی نشانہ بن گیا

تمام تر اقدامات کے باوجود بھی پولیس ہوائی فائرنگ کی روک تھام میں ناکام رہی۔ ایک جانب جہاں درجوں افراد زخمی ہوئے تو وہی کئی قیمتی جانیں بھی چلی گئی ہے۔

پشاور کے علاقے متنی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ نوجوان سید نواز کا شمار بھی ان بدقسمت نوجوانوں میں ہوتا ہے جو گزشتہ شب ہوائی فائرنگ کی ضد میں آکر شدید زخمی ہوکر زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد، خوفناک ٹریفک حادثے میں متعدد افراد زخمی

متنی گلشن آباد کا رہائشی گھر کے باہر تھا کہ نامعلوم مقام سے گولی آئی اور اسے لگ گئی۔ سید نواز کو ریسیکو 1122 کے زریعے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق 26 تاریخ کو ان کی شادی تھی جس کے لیے ان کی تیاریاں جاری ہے۔ شادی کے لیے سید نواز نے بہت پلاننگ کی تھی اور وہ نامعلوم افراد کی ہوائی فائرنگ سے زندگی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق تھانہ متنی میں مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ رات

پشاور میں ہوائی فائرنگ کے درجنوں واقعات سامنے آئے ہیں۔ صرف 19 واقعات تو لیڈی ریڈنگ اسپتال میں رپورٹ ہوچکی ہے۔
جہاں سید نواز سمیت دو قیمتی جانیں ضائع بھی ہوچکی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ہوائی فائرنگ ایک خطرناک روایت بن چکی ہے، جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل بھی کی تھی کہ وہ چاند رات پر فائرنگ سے گریز کریں اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری اطلاع دیں لیکن اس کے باوجود بھی صدر،حیات اباد،بڈھ بیر اور شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے۔

سید نواز کے دوستوں اور رشتہ داروں کے مطابق نواز کی 26 تاریخ کو شادی طے تھی، لیکن قسمت نے کچھ اور ہی فیصلہ کیا۔ اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب جو شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے، وہ اچانک صدمے میں مبتلا ہو گئے۔ مقتول کا جنازہ ادا کر دیا گیا ہے، جبکہ خاندان کے افراد غم سے نڈھال ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق پشاور سمیت صوبے بھر میں ہوائی فائرنگ کے واقعات میں سامنے آئے ہے۔ مگر انتظامیہ اس پر قابو پانے میں ناکام نظر آئی ہے۔

صوبے کے دیگر اضلاع چارسدہ، مردان، نوشہرہ، صوابی، کرک، بونیر ،بنوں اور سوات میں بھی درجنوں کیسز سامنے آئے ہیں، جہاں متعدد افراد زخمی اور جاں بحق بھی ہوئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔ کچھ شہریوں کو کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس ہے یا لاپرواہ؟۔

کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہوائی فائرنگ کے باعث جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ہر سال درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور سینکڑوں افراد زخمی ہوتے ہیں، لیکن پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *