کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ پر ہونے والے حملے کو کچھ قوم پرست عناصر “سندھ پر حملہ” کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔
تفصیلات کے مطابق عامر نواز وڑائچ پر ہونیوالاحملہ نہ تو سندھی اور پنجابی مسئلہ ہے اور نہ ہی کسی سیاسی اختلاف کا نتیجہ ہے بلکہ یہ ایک ذاتی دشمنی اور ہراسگی کیس کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں ایڈووکیٹ کرن کامران کی جانب سے عامر نواز وڑائچ پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ انہی الزامات کے نتیجے میں کرن کامران کے بھائیوں کامران صدیقی اور منتظر صدیقی نے ذاتی انتقام کے طور پر یہ اقدام اٹھایا۔
یہ واقعہ صرف ایک قانونی اور ذاتی مسئلہ ہے، نہ کہ لسانی یا صوبائی نوعیت کا، تاہم چند شرپسند عناصر اس واقعے کو سندھ کی شناخت پر حملہ بنا کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔
خدارا ہوش سے کام لیں! سندھ کا مسئلہ پانی پر بھی حل ہوگا اور انصاف پر بھی، مگر جھوٹے بیانیے پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنا پاکستان دشمنی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سچ کو پہچانیں، نفرت کے بیج بونے والوں کو رد کریں، اور مل کر اس ملک کو بچائیں۔