سربراہ نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے صدر مسلم لیگ ن میاں نوازشریف سے ملاقات کی ہے ۔
سربراہ نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سربراہی میں نیشنل پارٹی کا وفد جاتی امرا پہنچ گیا ، وفد میں سینیٹر جان محمد بلیدی،چیئرمین اسلم بلوچ و دیگر رہنما شامل ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ڈاکٹر مالک بلوچ کی قیادت میں نیشنل پارٹی کے وفد کا استقبال کیا۔
ڈاکٹر عبدالمالک کی نوازشریف سے ملاقات میں بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، بی این پی مینگل کے لانگ مارچ و دھرنے، خواتین اور سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں، اور صوبے کی معاشی پسماندگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے میاں نواز شریف کو آگاہ کیا کہ بلوچستان دو دہائیوں سے بدامنی، ترقیاتی نظراندازی اور سیاسی جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میاں نواز شریف جیسے سینیئر اور مدبر سیاستدان کو اس بحران میں اپنا سیاسی اور جمہوری کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) اور نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت نے بلوچستان میں امن، مفاہمت اور ترقی کا ایک مثبت سلسلہ شروع کیا تھا جو سیاسی مداخلت کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوا۔
میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نیشنل پارٹی کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنا اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بلوچستان میں امن، جمہوریت، انسانی حقوق کے تحفظ اور ترقیاتی عمل کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔
ڈاکٹر مالک بلوچ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کو بلوچستان کے سیاسی و معاشی مسائل میں مداخلت کی درخواست کی گئی ہے، اور وہ اس پر راضی بھی ہوگئے ہیں، انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ نواز شریف بلوچستان کا دورہ کریں، سیاسی قائدین سے ملاقاتیں کریں تاکہ مسئلہ بلوچستان کا سیاسی حل ممکن بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف سیاسی انداز میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے عوام کے حقوق اور عزت کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔