عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے تاہم اس کا انحصار فیول ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حکومتی فیصلے پر ہوگا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے کمی کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں پچھلے ہفتے بھی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے جس سے آئندہ بھی بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 31 مارچ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 74.74 ڈالر سے 60.12 ڈالر فی بیرل یعنی 15 ڈالر فی بیرل کمی دیکھی گئی ہے تاہم یکم اور 2 اپریل کو بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں پھر 74.95 ڈالر فی بیرل ہو گئیں، عالمی سطح پر تیل کی مانگ میں کمی کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر سے قیمتوں 74.95 ڈالر سے 14 ڈالر فی بیرل کم کر دی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جہاں بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کی گئی وہیں پاکستان پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے فی لیٹر کر دیا۔ پاکستان پیٹرولیم ڈویژن کا یہ اندازہ ہے کہ اب خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث 12 روپے فی لیٹر کمی ہو سکتی ہے جس سے ممکنہ طور پر صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈویژن کے عہدیداروں کے مطابق حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔عالمی سطح پر خام تیل کی حالیہ کمی نے حکومت کو جی ایس ٹی کے نفاذ پر غور کرنے کے لیے گنجائش فراہم کی ہے۔
پاکستان پیٹرول ڈویژن کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کس طرح حکومت صارفین کو ریلیف کے ساتھ قیمتوں کو متوازن رکھتی ہے۔ کیونکہ عام خیال ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔