لاہور ہائیکورٹ نے اسحٰق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم کی تقرری کیخلاف اپیل مسترد کر دی، عدالت نے اپیل پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے اسحٰق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تقرری کیخلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سنگل بینچ کا درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اپیل پر محفوظ فیصلہ سنایا، سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل خاتون اشبا کامران نے دائر کررکھی تھی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئین پاکستان میں ڈپٹی وزیراعظم کا کوئی عہدہ نہیں ہے، وزیراعظم نے وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کو غیر قانونی ڈپٹی وزیراعظم مقرر کیا ہے۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے دائر پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ اسحٰق ڈار کی تقرری کو کالعدم قرار دے، تاہم عدالت عالیہ پنجاب نے خاتون کی اپیل مسترد کرنے کا حکم سنا دیا۔
واضح رہے کہ اسحٰق ڈار بطور وزیر خارجہ بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کے پاس ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ بھی ہے، ان سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے دور حکومت میں پرویزالٰہی کو نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں سندھ ہائیکورٹ نے سینیٹر اسحٰق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تقرری کے خلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ نے 6 ہفتوں میں فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا۔