پنجاب اسمبلی میں ایران میں 8 پاکستانیوں کے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی میں ایران کے صوبہ سیستان میں 8 پاکستانی شہریوں کے بے رحم قتل کے خلاف مذمتی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی ہے، قرارداد مسلم لیگ ن کی ممبر صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے جمع کروائی تھی۔

ایم پی اے حنا پرویز بٹ کی جانب سے پیر کو پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی مذمتی قرارداد میں گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ پاکستانی وہاں روز گار کی تلاش میں گئے تھے، وہ سب وہاں آٹو مکینک تھے۔

قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی پارلیمنٹ ایران میں بیہمانہ قتل ہونے والے پاکستانیوں کی بھر پور مذمت کرتی ہے کیوں کہ قتل ہونے والے محنتی مزدور تھے، اور وہ بیرون ملک روزی روٹی کے لیے گئے تھے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام متاثرین کا تعلق ضلع پنجاب سے ہے اور یہ سراسر پاکستان اور ایران کے تعلقات میں دڑار ڈالنے اور خرابی پیدا کرنے والا اقدام ہے۔

قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہمیں فوری انصاف کی یقین دہانی کرائی جائے، ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اس لیے دونوں ممالک کے مابین حالات کشیدہ ہونے سے قبل انصاف فراہم کیا جائے۔

قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سانحے میں ملوث دہشتگردوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور پاکستان کے حوالے کیا جائے اور دونوں ممالک کی حکومتوں کی طرف سے یقین دہانی کروائی جائے کہ آئندہ ایسا کوئی سانحہ رونما نہ ہونے پائے۔

تحقیقات کا آغاز

دوسری جانب اتوار کو اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ  تحقیقات جاری ہیں۔ ایرانی سفارت خانے کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی پولیس اس واقع میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی سب کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی، ترجمان نے کہا کہ مقتولین کی میتیں جلد از جلد پاکستان واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی  ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ جنوری میں، پاکستان-ایران سرحد کے قریب سراوان میں اسی طرح کے ایک حملے میں 9 پاکستانی مارے گئے تھے، جس کے بعد سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *