حکومت سندھ نے ناقص و غیر محفوظ کمرشل گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخی کا فیصلہ کرلیا، گرین لائن اور اورنج لائن بسوں کا ایک نیا روٹ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جبکہ خواتین کے لیے پنک ای وی اسکوٹر اسکیم بھی جلد متعارف کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت ہونے والے اہم اجلاس کی صدارت سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کی، جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایس ایم ٹی اے کے ایم ڈی کمال دایو، پیپلز بس سروس کے پی ڈی صہیب شفیق سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ کے جاری منصوبوں پر پیشرفت اور روڈ سیفٹی کے حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس دوران فیصلہ کیا گیا کہ ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کے لیے شروع کی جانے والی اسکوٹر اسکیم میں شرکت کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کا ہونا لازمی ہوگا۔ اجلاس میں کمرشل گاڑیوں کے معائنے کے نظام کو جدید بنانے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے، جن کے تحت نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے پر ایم وی آئی (موٹر وہیکل انسپیکشن) سینٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ شہروں میں داخل ہونے والی کمرشل گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنایا جا سکے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ کراچی میں پہلے ہی دو ایم وی آئی سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ تین مزید کراچی اور پانچ سندھ کے دیگر اضلاع میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جون میں 34 نئی الیکٹرک بسیں اور 5 ڈبل ڈیکر بسیں کراچی پہنچنے کی توقع ہے جبکہ مزید 100 بسیں بھی جون ہی میں کراچی پہنچائی جائیں گی۔
سینئر وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت ٹرانسپورٹ کے شعبے کو جدید، محفوظ، ماحول دوست اور عوام دوست بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بااعتماد، سستی اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں 500 الیکٹرک ٹیکسیاں متعارف کروانے کے لیے بھی عملی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے، جو سندھ کے ٹرانسپورٹ نظام کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی جانب اہم قدم ہوگا۔