وفاقی حکومت نے دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ روک دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری نے اہم ملاقات کی جس میں پاکستان کے آبی وسائل اور زرعی پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
اس ملاقات میں وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ سی سی آئی کی باہمی افہام و تفہیم کے بغیر کسی بھی نئی نہر کی تعمیر نہیں کی جائے گی اور جب تک تمام صوبوں میں اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہو جاتا، اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمام صوبوں کو پاکستان بھر میں زرعی پالیسی اور پانی کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک طویل المدتی، متفقہ روڈ میپ تیار کرنے کے عمل میں شامل کرے گی۔ اس اقدام کے تحت تمام صوبوں کے پانی کے حقوق، پانی کی تقسیم کے معاہدے (1991) اور واٹر پالیسی 2018 میں موجود اصولوں پر عمل در آمد کیا جائے گا، جن پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق رائے ہے۔
تمام صوبوں کے تحفظات کو دور کرنے اور پاکستان کی خوراک اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے، جس میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہوگی۔ یہ کمیٹی دو متفقہ دستاویزات کی بنیاد پر پاکستان کی طویل المدتی زرعی ضروریات اور تمام صوبوں کے پانی کے استعمال کے حوالے سے حل تجویز کرے گی۔
پانی کو پاکستان کے اہم ترین وسائل میں شمار کیا جاتا ہے اور 1973 کے آئین میں بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ آئین کے مطابق آبی وسائل کے تمام تنازعات کو اتفاق رائے سے حل کرنا اور کسی بھی صوبے کے خدشات کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مستعدی سے حل کرنا ضروری ہے۔
اس سلسلے میں اگلا اہم اجلاس 2 مئی 2025 کو مشترکہ مفادات کونسل (CIC) کا منعقد ہوگا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے وفاقی حکومت کی پالیسی کی توثیق کریں گے۔ اس اجلاس میں کوئی بھی تجویز اتفاق رائے سے منظور کی جائے گی اور متعلقہ اداروں کو مزید مشاورت کے لیے واپس بھیج دیا جائے گا۔