وزیر دفاع خواجہ آصف نے سندھ طاس معاہدے کے بعد شملہ معاہدے پر نظر ثانی کرنے کا عندیہ دیدیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سندھ طاس معاہدے کے بعد شملہ معاہدے پر نظر ثانی کرنے کا عندیہ دیدیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت جس بھی طرف قدم اٹھائے گا، جواب دیا جائیگا اور سندھ طاس معاہدے کے بعد ہم شملہ معاہدےپرنظرثانی کرسکتےہیں۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نےجواقدامات کیےہم نےاس کےجواب میں اقدامات کیے۔ ہوسکتاہےبھارت واٹرٹیسٹ کرکےدیکھناچاہتاہوہماراکیاردعمل ہوگا۔ بھارت یکطرفہ طورپرسندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا۔

سندھ طاس معاہدے پر ہم ورلڈ بینک میں جائیں گے۔ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کو سپورٹ کررہا ہے اس میں شک نہیں۔ بطور وزیراعلیٰ نریندر مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ بھارت دہشتگردوں کو آئی ڈیز اور دیگر ہتھیار فراہم کررہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ بھارت جس طرف بھی قدم بڑھائے گا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ہم نےبھارت کاوارخالی نہیں جانےدیا۔ ہم شملہ معاہدےپرنظرثانی کرسکتےہیں۔ پاکستان بھارتی اقدامات کےنتیجے میں شملہ معاہدہ سےنکل سکتاہے۔

گجرات فسادات کےنتیجےمیں2200 افرادکوزندہ جلادیاگیا۔ بھارت کاموجودہ وزیراعظم ایک دہشت گردہے۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردوں کو مسلح کررہا ہے۔ ہمیں انٹیلی جنس رپورٹ ہیں بھارت ہمارےشہروں پرحملہ کرسکتاہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ افغانستان کے راستے بھارت پاکستان میں دہشتگردی کررہا ہے۔ بھارت نےامریکااورکینیڈامیں سکھ رہنماؤں کوقتل کیا۔ مودی سندھ طاس معاہدے کوسیاسی مقاصدکیلئےاستعمال کرناچاہتاہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے پاس انٹیلی جنس ہیں کہ بھارت پاکستان میں حملے کی تیاری کر رہا ہے رپورٹس ہیں کہ بھارت آئی ای ڈیز اور دیگر ہتھیار فراہم کر رہا ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے ذریعے اہم شہروں کو نشانہ بنائےگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اشرف غنی دور میں افغانستان میں بھارت کی کئی قونصلیٹ تھیں جن کے ذریعے دہشت گردوں کو فنڈز اور اسلحہ فراہم کیا جاتا تھا مودی کی حکومت ہے اور وہ گجرات کی ذہنیت لےکر چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمارے شہروں میں دہشت گردی کی ہے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی جارہی ہے طالبان بھارتی ایجنٹ ہیں ان کا اسلام سےکوئی تعلق نہیں جب کہ بی ایل اے بھی بھارت نواز جماعت ہے وہاں سے فنڈز حاصل کرتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *