اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے قونصلر جواد اجمل نے بھارت کے الزامات کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے عالمی برادری کو باور کرایا ہے کہ پاکستان کو علاقائی حریف کی سرپرستی میں دہشتگردی کا سامنا ہے، جعفر ایکسپریس پر حملے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
اقوام متحدہ میں ’دہشتگردی کے متاثرین کی ایسوسی ایشن نیٹ ورک‘ کے سیشن کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مشن کے قونصلر جواد اجمل نے بھارتی الزامات کے بے بنیاد، من گھڑت قرار دیتےہوئے مسترد کر دیا اور عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان ’پہلگام واقعے‘ کی پہلے ہی مذمت کر چکا ہے۔
جواد اجمل نے بھارتی مندوب کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس جعفر ایکسپریس پر حملے کے نا قابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ حریف ملک (بھارت) کی سرپرستی میں پاکستان کے اندر دہشتگردی ہو رہی ہے۔
جواد اجمل نے کہا کہ بھارتی مندوب نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی مظالم کے حقائق چھپانے کی کوشش کی، مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کو بدترین ریاستی دہشتگردی کا سامنا ہے، بھارت کا کوئی بھی بیان یا حربہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی ظلم کو چھپا نہیں سکتا۔ جواد اجمل نے کہا کہ دہشتگردی اور حق خودارادیت کی تحریک میں فرق کیا جانا چاہیے، ریاستی دہشتگردی کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کشمیری عوام کو 9 لاکھ قابض بھارتی فوج اور ریاستی مشینری کے ظلم و جبر کا سامنا ہے، مقبوضہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر کے نہتے اور بے بس شہریوں کے خلاف نئی دہلی کی ریاستی دہشتگردی پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرائے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں جموں کشمیر میں کشمیریوں کو آزادانہ استصواب رائے کا حق دیتی ہیں، سلامتی کونسل بھارت کو قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند بنائے اور کشمیری عوام کی مشکلات کو حل کرے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں حملوں کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، اس وقت اس طرح کی ظلم نا انصافیوں اور جنگ و جدل کے باعث 12 کروڑ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔