پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے پیش نظر عوام کو فضائی حملے سے پیشگی آگاہ رکھنے کے لیے خیبرپختونخوا کے 29 اضلاع میں سائرن نصب کر دیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواسول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق 29 اضلاع کو 50 عدد سائرن فراہم کر دیے گئے ہیں، حملے کی صورت میں 120 کلو وزنی سائرن 15 کلومیٹر تک آواز دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ سائرن پشاور، ایبٹ آباد، مردان، کوہاٹ، سوات، ڈیرہ اسمعٰیل خان، بنوں ،مالاکنڈ، دیر لوئر، چترال لوئر، کرم ایجنسی، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، باجوڑ ایجنسی، ہری پور، مانسہرہ، دیر اپر، شانگلہ، بونیر، لکی مروت،خیبر، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، بٹ گرام، ٹانک اور اورکزئی ایجنسی سمیت دیگر اضلاع کو دیے گئے ہیں۔
سائرن حالت جنگ میں شہریوں کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کے لیے خبردار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سائرن کی فراہمی کا مقصد جنگی خطرے، فضائی حملے کے پیشگی انتباہ کے طور عوام کو الرٹ کرنا ہے، تمام سول ڈیفنس آفیسر سائرنز کی فعالیت اور درست حالت کو برقرار رکھنے کو یقینی بنائیں۔
علاوہ ازیں خیبر پختونخوا میں پہلے سے نصب شدہ سائرنز کی تفصیلات طلب اور سول ڈیفنس کو ہنگامی تیاری کی ہدایت کردی ۔
سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ پشاور نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور سول ڈیفنس کنٹرولرز کو ہدایت جاری کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں پہلے سے نصب شدہ سائرنز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر فراہم کریں۔
2020 میں سول ڈیفنس وارننگ سسٹم کو فعال بنانے کے لیے خیبر پختونخوا میں 50 الیکٹرک سائرنز خریدے گئے تھے، ان سائرنز کی تنصیب کا مقصد کسی بھی جنگی یا فضائی حملے کی صورت میں عوام کو بروقت خبردار کرنا تھا۔