بھارتی روّیہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کو خط

بھارتی روّیہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کو خط

وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھا ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے متعلق فوری توجہ دینے پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت کا جارحانہ روّیہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافونٹ کو لکھے گئے2 صفحات پر مشتمل خط میں بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ گزشتہ چند روز کے دوران یکطرفہ، سیاسی محرکات اور انتہائی اشتعال انگیز اقدامات کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین، قائم سفارتی اصولوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ یہ اقدامات علاقائی کشیدگی بڑھانے اور بھارت کے اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں جس میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی اور مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پہلگام حملے کے بعد بھارت کے الزامات کو بھی واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور خطے میں قیام امن کی کوششوں کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن کو جواز بنا کر بھارت نے کشیدہ صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے الزامات عائد کر رہا ہے، پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس طرح جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات محدود داخلی سیاسی مقاصد کے لیے کیے گئے ہیں جن کے نتائج بھارت کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں‘۔

خط میں 24 اپریل 2025 کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں بھارت کے اقدامات کے جواب میں متناسب جوابی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اسحاق ڈار نے خط میں لکھا ہے کہ ان اقدامات کی تفصیلات پہلے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کو بتا دی گئی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے سے یکطرفہ طور پر باہر نکلنا یا معطلی کی اجازت دینے والی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام علاقائی استحکام کے بنیادی ستون پر حملہ ہے جس کے اہم مشترکہ وسائل کے پرامن انتظام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

قومی سلامتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش اور دریاؤں کے نچلے علاقوں کے حقوق غصب کرنے کو جنگی کارروائی تصور کیا جائے گا۔

علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اگر اشتعال انگیزی کی گئی تو پاکستان اپنے دفاع سے دریغ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے پاکستان تحمل پر یقین رکھتا ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع کے بنیادی حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے بامعنی اقدامات کرے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطے کو تعاون اور تحمل کی ضرورت ہے، مہم جوئی کو برداشت کرنے سے مزید عدم استحکام کو تقویت ملے گی۔

خط میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر کا حل طلب تنازع علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور خطے میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کا حل طلب تنازع جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔ بھارت کا مسلسل غیر قانونی قبضہ اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں بین الاقوامی تشویش کا باعث ہیں۔ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع  کے منصفانہ، دیرپا اور پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں نئے سرے سے اور مربوط کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *