پنجاب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں موجودہ صورتحال اور پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی شرکت کی،اجلاس میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ پنجاب میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی، ڈیمانڈ اور دستیاب ذخائر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جنگی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بچت پالیسی اپنانا ضروری ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ایندھن کے استعمال میں احتیاط اور کفایت کے ذریعے موجودہ صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اجلاس کے دوران خاص طور پر زرعی شعبے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہدایت دی کہ زرعی استعمال کے لیے ڈیزل کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔
مریم نواز نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔
انہوں نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ کسی بھی جگہ قلت یا ناجائز منافع خوری کی صورتحال پیدا نہ ہو۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھی صورتحال کی نگرانی اور ضروری کارروائی کی ہدایت دی، انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول پمپس پر عوام کو غیر ضروری قطاروں میں کھڑا ہونے کی نوبت نہیں آنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صوبے کے کسی بھی حصے میں مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر پٹرولیم مصنوعات فروخت نہ کی جائیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب کو پٹرول، ڈیزل، ایل این جی اور دیگر ایندھن کے ذخائر کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی بحران کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔