معروف پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین تنویر احمد نے امریکی کانگریس مین جیک برگمین سے ایک مباحثے کے دوران حالیہ پہلگام حملے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف بھارت کے الزامات کو مکمل بے بنیاد اور جھوٹا ثابت کر دیا اور امریکی کانگریس مین سے کہا کہ اگر امریکا پاکستان کو بھارت کی آنکھ سے دیکھے گا تو اس کے انصاف پسند چہرے پر سوالات اٹھ جائیں گے۔
معروف پاکستانی بزنس مین تنویر احمد نے بھارت کے پہلگام فالس فلیگ ڈرامے کے بعد پاکستان پر الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ بھارت اپنے الزامات پر کوئی ثبوت پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے، اس پر عالمی برادری کو اس کی باز پرس کرنی چاہیے۔
تنویر احمد نے مباحثے کے دوران امریکی کانگریس مین کو لاجواب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو وہ ابھی تک سامنے کیوں نہیں لے آیا جبکہ اس کے برعکس پاکستان نے اپنی سرحدوں کے اندر دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت پیش کیے ہیں۔
مباحثے کے دوران تنویر احمد نے شرکا اور کانگریس مین کے ابتدائی سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارت کی اصلیت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم میں سے زیادہ تر پاکستان میں پیدا ہوئے، میں اکثر کہتا ہوں کہ میں پاکستان میں پیدا ہوا لیکن امریکا میں پرورش پائی، پاکستان نے مجھے پہچان دی اور امریکہ نے مجھے کامیابی دی۔ میں فخر سے دونوں ممالک کو اپنا گھر سمجھتا ہوں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت نے حال ہی میں اپنی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، بھارت نے پہلگام حملے کے بارے میں اپنے دعوؤں کے لیے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا ہے جبکہ پاکستان نے کچھ ہفتے پہلے جعفر ایکسپریس کے ہائی جیکنگ جیسے حملوں میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت کھلے عام پیش کیے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ میرے خیال میں بھارت نے جعفر ایکسپریس حملے میں اپنے ملوث ہونے سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں پاکستان پر الزام لگانا شروع کر دیا‘۔
تنویر احمد نے پہلگام واقعہ کے بارے میں بھارت کے بیانیے کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’پولیس ریکارڈ کے مطابق، یہ واقعہ دوپہر 1:50 بجے شروع ہوا اور دوپہر 2:20 بجے تک جاری رہا۔ حیران کن طور پر، صرف 10 منٹ کے اندر دوپہر 2:30 بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کسی مقام سے سفر کرے، جسے پولیس اسٹیشن پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے اور پھر بھی 10 منٹ میں رپورٹ درج ہو جاتی ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ پہلے سے منصوبہ بند تھا، کس طرح، 10 منٹ میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ حملہ آور پاکستانی تھے؟ اس کے باوجود بھارت کی جانب سے ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت بے بنیاد الزامات اور جنگی جنون میں مبتلا ہے جبکہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکی اتحادی ہونے کے نتائج بھگت رہا ہے۔
تنویر احمد نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاسی صورت حال کا ازسرنو جائزہ لے۔ انہوں امریکی کانگریس مین پر زور دیا کہ جب تک امریکا پاکستان کو بھارت کی عینک سے دیکھتا رہے گا، ہم صورتحال کی حقیقت کو کبھی نہیں سمجھ پائیں گے اور نہ ہی پاکستان کے لیے انصاف حاصل کر سکیں گے۔ اگر پاکستان کو علاقائی امن کے قیام میں اس کا منصفانہ حصہ نہیں دیا گیا تو جنوبی ایشیا کو کیسے مستحکم کیا جاسکتا ہے؟
انہوں نے ایک وسیع تر پیغام کے ساتھ اپنی بحت کو ختم کیا کہ ’میرا سوال سادہ سا ہے، کیا ہمیں امریکا اور باقی دنیا کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے عالمی امن کے قیام کے لیے کوشش نہیں کرنی چاہییں؟، ؟ ہر انسان کو جینے کا حق حاصل ہے۔ دنیا کو جنگ کی بجائے امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔
کانگریس مین جیک برگمین کا جواب
تنویر احمد کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس مین جیک برگمین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ابھی تک اس معاملے کا گہرائی سے مطالعہ نہیں کیا ہے۔
برگمین نے کہا کہ آپ نے جو تفصیلات فراہم کی ہیں ان کی بنیاد پر، میں سن رہا ہوں اور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ’میں فی الحال کوئی ٹھوس جواب نہیں دے سکتا، لیکن میں صورتحال کے بارے میں مزید پڑھنے اور بہتر سمجھ بوجھ کے ساتھ بعد میں اس گفتگو پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ فی الحال میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی مایوس کن صورتحال ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘دنیا یعنی ہماری زمین انسانوں کے ذریعے آباد ہے اور ہم سب ناقابل تسخیر ہیں۔ ایسے وقت میں ذمہ دار عناصر یا ادارے ہونے چاہییں اور میرا ماننا ہے کہ یہ امریکا اور ہم خیال آزاد ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کی بہتری کے لیے مثال قائم کریں۔