اگر بھارت کی جانب سے حملہ کیا گیا تو مکمل طاقت سے جواب دیا جائے گا، پاکستانی سفیر

اگر بھارت کی جانب سے حملہ کیا گیا تو مکمل طاقت سے جواب دیا جائے گا، پاکستانی سفیر

روس میں تعینات پاکستانی سفیر محمد خالد جمالی نے بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کا جواب  پوری قوت سے دینے کا اعلان کردیا۔

ذرائع  کے مطابق پہلگام فالس فلیگ کے بعد سے بھارتی نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا دیا، پاکستان نے ٹھوس شواہد کے ساتھ بھارت کے ہر الزام کی تردید کی ، بغیر کسی جواز یا ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا کر بھارت نے اپنی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر مزید کمزور کر دیا، اس حوالے سے پاکستان کے سفیر محمد خالد جمالی نے بھارت کو ایک بار پھر خبردار کر دیا۔

 پاکستانی سفیر محمد خالد جمالی نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس انٹیلی جنس شواہد موجود ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کارروائی کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملے کی کوئی کوشش کی تو اسے ایٹمی ہتھیاروں سمیت پوری قوت سے جواب دیا جائے گا، مخصوص علاقوں کونشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، محسوس ہورہا ہے کہ یہ حملہ قریب ہے اوراس کا خطرہ حقیقی نوعیت کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لائیو پروگرام میں مودی اور بھارتی میڈیا کا لاشوں پر ووٹ لینے کا کھیل بے نقاب

خالد جمالی نے کہا کہ بھارت اس سے قبل بھی متعدد فالس فلیگ آپریشنز کر کے الزام پاکستان کے سر تھوپ چکا ہے، پانی کے مسئلے پر کسی بھی جارحیت کا جواب جنگ سے ہوگا،  اگر بھارت نے دریاؤں کے پانی کا رخ موڑنے یا اسے روکنے کی کوشش کی تواسے بھی پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا، اور ایسی کسی بھی حرکت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی جنگی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں، ہمیں اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کا پورا حق ہے، ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پہلگام حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، ہم چین اور روس سے پہلگام حملے کی تحقیقات میں شامل ہونے کی درخواست کرتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگا کر بھارت نے اپنی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر مزید کمزور کر دیا ہے، بھارت خود ہی بے بنیاد الزامات لگا کر اپنی کی گئی سازشوں اور فالس فلیگ آپریشنز کو بے نقاب کر رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *