پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر ’تنازع کشمیر‘ کا حل تلاش کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر ’تنازع کشمیر‘ کا حل تلاش کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر کروانے کے بعد تنازع کشمیر کے حل پر توجہ مرکوز کر لی ہے، امریکی صدر نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر سیکڑوں سال پرانے ’تنازع کشمیر‘ کا حل تلاش کروں گا۔

اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پوسٹ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ ثالثی میں سیز فائر کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی بات کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مجھے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی قیادت پر فخر ہے کہ دونوں نے کشیدگی سے پیدا ہونے والے خدشات کو سمجھا اور اس سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ پاکستان اور بھارت نے دشمنی روک کر مذاکرات کرنے کا تاریخی اور بہادرانہ’ فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ مجھے فخر ہے کہ امریکا اس تاریخی اور جرات مندانہ فیصلے پر پہنچنے میں آپ کی مدد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر میزائل حملوں کے بعد سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا اور بھارت کے فوجی انفراسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

تاہم امریکی صدر کا تازہ بیان فوری جنگ بندی کے معاہدے سے الگ تھلگ ہے، ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے کام کریں گے اور دونوں جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو خاطر خواہ فروغ دینے کا عہد کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ مجھے بھارت اور پاکستان کی مضبوط اور غیر متزلزل قیادت پر بہت فخر ہے کہ دونوں ممالک کے پاس ایک دانشمند اور سمجھدار قیات ہے جس میں اپنی دانش کے مطابق یہ فیصلے کرنے کی جرات موجود ہے کہ ’جارحیت کو روکنے کا وقت آگیا ہے جو بہت سے لوگوں کی موت اور تباہی کا سبب بن سکتی تھی، لاکھوں اچھے اور بے گناہ لوگ مارے جا سکتے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کی قیادت کی تعریف میں مزید لکھا کہ آپ کے دانشمندی آپ کے دلیرانہ فیصلے کی عکاسی کرتی ہے۔ مجھے فخر ہے کہ امریکا اس تاریخی اور بہادرانہ فیصلے تک پہنچنے میں آپ کی مدد کرنے کے قابل ہوا۔

انہوں نے لکھا کہ ’اگرچہ اس پر بات بھی نہیں ہوئی ہے، لیکن میں ان دونوں عظیم ممالک کے ساتھ تجارت میں خاطر خواہ اضافہ کرنے جا رہا ہوں۔ مزید  یہ کہ ’میں آپ دونوں کے ساتھ مل کر کام کروں گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا ’ہزار سال‘ کے بعد کشمیر کے بارے میں کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ خدا بھارت اور پاکستان کی قیادت کو اچھے کام میں برکت عطا فرمائے!

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *