اسمارٹ فونز میں بچوں کے لیے نئے حفاظتی اقدامات لازمی قرار

اسمارٹ فونز میں بچوں کے لیے نئے حفاظتی اقدامات لازمی قرار

برطانیہ نے ایپل اور گوگل سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تین ماہ کی مہلت دے دی ہے تاکہ وہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں موجود ایسے حفاظتی فیچرز فعال کریں جو بچوں کو برہنہ اور جنسی نوعیت کی تصاویر دیکھنے، وصول کرنے یا شیئر کرنے سے روک سکیں۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کو آن لائن استحصال اور جنسی جرائم سے محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق نئی حفاظتی ٹیکنالوجی بچوں کو نہ صرف نامناسب تصاویر دیکھنے سے روکے گی بلکہ ایسی تصاویر بنانے، بھیجنے اور وصول کرنے کے امکانات بھی کم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں :صدی کا سب سے طویل سورج گرہن، 2027 میں دن رات میں بدل جائے گا

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے آن لائن شکاریوں اور بچوں کا استحصال کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے بچوں کی انٹرنیٹ پر محفوظ رسائی کو یقینی بنانے اور کم عمر افراد کو فحش مواد تک پہنچنے سے روکنے کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق کئی جدید اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں پہلے سے ایسے تکنیکی فیچرز موجود ہیں جو حساس یا نامناسب تصاویر کی شناخت کر سکتے ہیں، تاہم حکومت چاہتی ہے کہ ان حفاظتی سہولیات کو فعال اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں :مچھروں کا خاتمہ اب ٹیکنالوجی کے ذریعے، دلچسپ ایجاد سامنے آگئی

برطانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ کمپنیاں مقررہ مدت کے اندر اقدامات نہ کر سکیں تو حکومت قانون سازی کا راستہ اختیار کرے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔

میڈیارپورٹ کے مطابق حکومت اس امکان پر بھی غور کر رہی ہے کہ مسلسل عدم تعاون کی صورت میں متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف فوجداری ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس مسئلے کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اگر وہ مطلوبہ اقدامات کرنے میں ناکام رہیں تو حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے قانون میں تبدیلی سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

editor

Related Articles