برطانیہ نے ایپل اور گوگل سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تین ماہ کی مہلت دے دی ہے تاکہ وہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں موجود ایسے حفاظتی فیچرز فعال کریں جو بچوں کو برہنہ اور جنسی نوعیت کی تصاویر دیکھنے، وصول کرنے یا شیئر کرنے سے روک سکیں۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کو آن لائن استحصال اور جنسی جرائم سے محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق نئی حفاظتی ٹیکنالوجی بچوں کو نہ صرف نامناسب تصاویر دیکھنے سے روکے گی بلکہ ایسی تصاویر بنانے، بھیجنے اور وصول کرنے کے امکانات بھی کم کرے گی۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے آن لائن شکاریوں اور بچوں کا استحصال کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے بچوں کی انٹرنیٹ پر محفوظ رسائی کو یقینی بنانے اور کم عمر افراد کو فحش مواد تک پہنچنے سے روکنے کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کئی جدید اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں پہلے سے ایسے تکنیکی فیچرز موجود ہیں جو حساس یا نامناسب تصاویر کی شناخت کر سکتے ہیں، تاہم حکومت چاہتی ہے کہ ان حفاظتی سہولیات کو فعال اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
برطانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ کمپنیاں مقررہ مدت کے اندر اقدامات نہ کر سکیں تو حکومت قانون سازی کا راستہ اختیار کرے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
میڈیارپورٹ کے مطابق حکومت اس امکان پر بھی غور کر رہی ہے کہ مسلسل عدم تعاون کی صورت میں متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف فوجداری ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس مسئلے کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اگر وہ مطلوبہ اقدامات کرنے میں ناکام رہیں تو حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے قانون میں تبدیلی سے بھی گریز نہیں کرے گی۔