ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا مثالی کردار ادا کرنے پر پوری دنیا پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر پاکستان کے کردار کی تعریف کررہے ہیں تو دوسری جانب اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار نے عمران خان کے حق میں متنازعہ اور گمراہ کن مضمون شائع متعدد سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مائیکل جینکلووٹز نامی ایک یہودی مصنف، جو ماضی میں اسرائیل کی جیوش ایجنسی کے ترجمان کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں، نے اسرائیلی اخبار “دی یروشلم پوسٹ” میں عمران خان کے حق میں ایک رائے پر مبنی مضمون تحریر کیا۔ مذکورہ اخبار اسرائیل کا انگریزی زبان کا میڈیا ادارہ ہے جو عموماً ریاستی مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے۔
اپنے مضمون میں مائیکل جینکلووٹز نے نہ صرف عمران خان کی حمایت کی بلکہ امریکی صدر سے ان کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔ مضمون میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی قید کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔
مائیکل جینکلووٹز کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی بیانیے کے حامی ہیں، جس کے باعث ان کی جانب سے عمران خان کی حمایت نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک اسرائیلی مصنف عمران خان کی حمایت کیوں کر رہا ہے اور اسرائیلی میڈیا میں ان کے حق میں مضامین کیوں شائع ہو رہے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں عمران خان پر اسرائیل کے حوالے سے نرم مؤقف رکھنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، جبکہ اب اسرائیلی حلقوں سے سامنے آنے والی حمایت نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب عمران خان کو پاکستان میں متعدد بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی موجودہ سول اور عسکری قیادت خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے اہم وقت میں اسرائیلی اخبار میں عمران خان کے حق میں شائع ہونے والا مضمون نئی بحث اور سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
Opinion: Pakistan now faces a defining test. Continuing to hold Imran Khan under contested circumstances risks deepening political divisions and damaging the country’s democratic fabric. https://t.co/kPeDj6uBJ2
— The Jerusalem Post (@Jerusalem_Post) April 16, 2026

