وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے دوران پاک بحریہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بحریہ کی جانب سے سمندری خطرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور حکمت عملی، آپریشنل مہارت اور مؤثر جوابی کارروائی کے لیے تیاریاں قابل ستائش ہیں۔
پاکستان نیوی ڈاک یارڈ میں پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمندری رابطوں کی حفاظت اور سمندری تجارت کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانے پر پاک بحریہ خراج تحسین کی مستحق ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں پوری قوم نے آہنی دیوار کا کردار ادا کیا ہے اور اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور ہمیشہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کی تیاری مثالی ہے اور اگر بھارت نے کوئی بحری جارحیت کی ہوتی تو 1965 کی طرح پاک بحریہ تاریخ رقم کرنے کے لیے چوکس تھی۔
بحری افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آپریشنل تیاریوں کی وجہ سے بھارتی بحریہ کے جہاز وکرانت نے کبھی بھی سمندر میں 400 ناٹیکل میل میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کی۔
انہوں نے پاک بحریہ کی قابل فخر تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرین فورس جب بھی اور جہاں بھی ضرورت پڑی تاریخی آپریشنز انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مسلح افواج کے درمیان مضبوط تعاون ملک کی تاریخ میں ایک سنہری باب ہے، انہوں نے مزید کہا کہ زمینی طاقت نے فتح میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کو جدید ٹیکنالوجی سے سبق سکھایا جو وہ طویل عرصے تک یاد رکھے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشیدہ صورتحال کے دوران کراچی پورٹ، قاسم پورٹ اور میگا سٹی مکمل طور پر فعال رہے اور تمام تجارتی جہاز بلا تعطل داخل اور باہر نکلتے رہے جبکہ بھارت کے مغربی ساحل پر تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی بحریہ نے بحیرہ عرب میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے، یہ پوری قوم اور بحریہ کی فتح ہے۔
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی اس موقع پر موجود تھے۔
دورے کے دوران وزیراعظم ٹائپ 054 اے کلاس ڈسٹرائر پی این ایس تیمور پر سوار ہوئے جہاں انہیں کمانڈر پاکستان فلیٹ نے پاک بحریہ کے اسٹریٹجک رجحانات، آپریشنل اقدامات اور جاری آپریشن کے دوران قابل ذکر کردار کے بارے میں بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے پاک بحریہ کے افسران اور سیلرز سے بات چیت کی اور ان کی مثالی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاریوں اور قومی دفاع کے لیے ثابت قدم رہنے کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے قوم کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر غیر متزلزل اعتماد کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال چوہدری، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی موجود تھے۔