والدین ہوشیار!آن لائن شاپنگ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے،حیران کن انکشاف

والدین ہوشیار!آن لائن شاپنگ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے،حیران کن انکشاف

دنیا بھر میں آن لائن خریداری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور والدین بھی بچوں کی ضروریات کی اشیا کے لیے مختلف ای کامرس پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر دستیاب ہر پروڈکٹ محفوظ اور معیاری نہیں ہوتی۔

ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے خوراک، نیند اور روزمرہ استعمال کی مصنوعات خریدتے وقت صرف کم قیمت، زیادہ ریٹنگ یا صارفین کے تبصروں پر بھروسہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ بعض غیر معیاری مصنوعات بچوں کی صحت اور زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

تحقیق میں 150 سے زائد مشکوک بچوں کی مصنوعات کی نشاندہی

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم وِچ؟ کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مختلف آن لائن مارکیٹ پلیسز پر کم از کم 150 ایسی بچوں کی مصنوعات فروخت کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں حفاظتی خدشات موجود ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ مصنوعات مختلف پلیٹ فارمز پر تیسرے فریق کے فروخت کنندگان کی جانب سے دستیاب ہیں، جن میں بچوں کے خودکار دودھ پلانے والے آلات، سونے کے لیے استعمال ہونے والے بیگز اور نومولود بچوں کے تکیے شامل ہیں۔

بچوں کے لیے خطرناک مصنوعات کئی پلیٹ فارمز پر دستیاب رہیں

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ مصنوعات متعدد آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود ہیں ، جن میں ایمیزون ، ای پے ،علی بابا گروپ اور ٹک ٹاک سمیت دیگر مارکیٹ پلیسز شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان میں سے بعض مصنوعات کے خلاف پہلے ہی مختلف ممالک کے حفاظتی ادارے انتباہ جاری کر چکے ہیں اس کے باوجود یہ اشیا صارفین کے لیے دستیاب رہیں۔

خودکار فیڈنگ آلات سے دم گھٹنے کا خدشہ

تحقیق میں سب سے زیادہ تشویش خودکار بوتل سے دودھ پلانے والے آلات پر ظاہر کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایسی مصنوعات میں بچوں کے لیے بغیر نگرانی دودھ پینے کا انتظام موجود جو دم گھٹنے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق میں شامل مصنوعات میں لمبی نالیوں والے فیڈرز اور ایسے بوتل ہولڈرز بھی شامل تھے جو بچے کے جسم یا گردن کے قریب استعمال کیے جاتے ہیں۔

بچوں کے تکیے اور سلیپنگ بیگز

ماہرین نے بچوں کے سونے سے متعلق مصنوعات پر بھی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ تحقیق کے دوران ایسے متعدد سلیپنگ بیگز سامنے آئے جن میں ہُڈ موجود تھے یا جن کا ڈیزائن بچوں کے لیے محفوظ نیند کے اصولوں کے مطابق نہیں تھا۔

اسی طرح نومولود بچوں کے لیے فروخت کیے جانے والے تکیوں کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوتے وقت تکیہ استعمال کرنا دم گھٹنے سمیت دیگر خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

آن لائن پلیٹ فارمز کو ذمہ دار بنایا جائے

وِچ؟ کی صارف تحفظ پالیسی کی سربراہ سو ڈیوس نے کہا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرناک مصنوعات کی آن لائن دستیابی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آن لائن مارکیٹ پلیسز کو قانونی طور پر اس بات کا ذمہ دار بنائے کہ ان کے پلیٹ فارمز پر فروخت ہونے والی مصنوعات حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہوں۔

والدین کے لیے حفاظتی ہدایات جاری

بچوں کے لیے خودکار فیڈنگ آلات استعمال کرنے سے گریز کریں۔

ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوتے وقت تکیہ استعمال نہ کریں۔

ایسے سلیپنگ بیگز خریدنے سے بچیں جن میں ہُڈ، اضافی کپڑا یا غیر ضروری ڈیزائن شامل ہوں۔

بچے کی عمر اور جسمانی ساخت کے مطابق مناسب سائز کی مصنوعات خریدیں۔

بچے کے سونے کی جگہ صاف، ہموار اور محفوظ رکھیں اور پالنے میں غیر ضروری اشیا نہ رکھیں۔

آن لائن کمپنیوں کا موقف

والدین کے لیے اہم پیغام

  بچوں کی مصنوعات خریدتے وقت معیار، حفاظتی منظوری اور مستند برانڈ کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ معمولی سی لاپرواہی بھی بچوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles