وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات محض روایتی جنگ تک محدود نہیں ہیں، بھارت نے پہلگام واقعے پر بغیر ثبوت کے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، دشمن نے آئندہ ایسا کوئی اقدام کی تو پھر منہ توڑ جواب دیں گے۔
ہفتہ کے روز کوئٹہ میں وزیراعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ کالج میں افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعہ کا پاکستان پر بے بنیاد الزام لگا کر جارحیت کی، جس کا ہماری افواج نے منہ توڑ جواب دیا،
بھارت نے میزائل حملے کیے تو پاکستان نے زمین اور فضاؤں میں منہ توڑ جواب دیا 10 مئی کی صبح جب آرمی چیف کا فون آیا تو وہ پوری اعتماد اور پرسکون تھے۔ بھارت نے پہلگام واقعے پر الزام میں اپنے فضائی حملوں میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کو شہید کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ائیرچیف مارشل نے بھارتی طیاروں کو گرا کر اپنا پیشہ ورانہ کمال ثابت کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں بھارت کو پیغام دیا کہ بھارت کی جانب سے کوئی بھی آبی جارحیت قبول نہیں کی جائے گی، بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرنے دیں گے، پاکستان اپنی جغرافیائی سرحدوں کا بھرپور دفاع کرے گا۔
پاکستان نے بھارت کو پہلگام واقعے پر غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی لیکن اس نے پاکستان کی پیش کش کا منفی جواب دیا، الخمد اللہ بھارت کو جنگی میدان میں بھی شکست دی اور سفارتی محاذ پر بھی شکست ہوئی، پاکستان نے امریکا اور دیگر دوست ممالک کی پیش کش کو قبول کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری افواج ہماری خود مختاری اور سالمیت کی محافظ ہیں، آج پاکستان کو درپیش خطرات روایتی محاذ تک محدود نہیں ہیں، پاکستان نے حالیہ بھارتی جارحیت کا نہ صرف جواب دیا بلکہ بازی ہی پلٹ کر رکھ دی، بھارت نے میزائل حملے کیے تو پاکستان نے زمین اور فضاؤں میں منہ تو جواب دیا۔ ہماری مصلح افواج نے بہترین خدمات سرانجام دیں۔
حکومت نے کرپشن کے لیے زیرو ٹارلنس ہے آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات سے معاشی استحکام ملا، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے ثابت کیا کہ وہ فیلڈ مارشل کے رینک کے صحیح حقدار ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی، ہماری حکومت کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے، ریونیوکلیکشن گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ رہی ہے۔