ایرانی صدرمسعود پزشکیان آج پاکستان کا دورہ کریں گے ،ترجمان دفتر خارجہ

ایرانی صدرمسعود پزشکیان آج پاکستان کا دورہ کریں گے ،ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس اہم دورے کے دوران وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دوطرفہ تعلقات سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔

ترجمان کے مطابق ایرانی صدر اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچیں گے جس میں وزراء اور اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔ اپنے دورے کے دوران وہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کریں گے۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے تعلقات کے تمام پہلو زیر غور آئیں گے جن میں تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان موجود تعاون کے مختلف معاہدوں پر پیش رفت اور ان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ایرانی صدر اس دورے کے دوران پاکستان کی سفارتی کوشش پر باضابطہ شکریہ ادا کریں گے جو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے حوالے سے کی گئی۔ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جسے ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ہمارے مفاد میں ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مثبت اور تعمیری ماحول میں مکمل ہوا ہے جس میں آئندہ پیش رفت کے لیے ساٹھ روزہ روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں پاکستان سمیت دوست اور برادر ممالک کی سفارتی کوششیں قابل ستائش ہیں۔

وزیر اعظم نے خاص طور پر پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے یہ اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کے عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور پاکستان کے کردار کو ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان ایران تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ علاقائی امن کے امکانات بھی بہتر ہوں گے۔

editor

Related Articles