نئے وفاقی بجٹ سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نئے مطالبات سامنے آگئے ہیں، جن میں وفاقی اور صوبائی سطح پر تمام متفقہ اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ 2025-26 کے تیاری کے آخری مراحل میں آئی ایم ایف نے اپنے نئے مطالبات پیش کیے ہیں۔ نئے قرض پروگرام کے تحت بجٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر تمام طے شدہ اصلاحات پر پوری طرح عمل کیا جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے صوبائی حکومتوں سے اخراجات میں کمی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے تحریری یقین دہانیاں طلب کی ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بجلی اور گیس کی سبسڈی مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، صوبائی حکومتوں کو نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے اور عملے میں کمی (رائٹ سائزنگ) کے اقدامات کو سنجیدگی سے اپنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بجٹ اہداف کے حصول کے لیے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور صوبوں کی بھرپور شراکت کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی بجلی اور گیس کی چوری اور اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بجٹ میں زرعی آمدنی اور خدمات پر ٹیکس عائد کرنے کا ایکشن پلان شامل کریں۔