اقوام متحدہ میں پاکستان نے ایران کی بھرپور سفارتی حمایت کا اعلان کردیا

اقوام متحدہ میں پاکستان نے ایران کی بھرپور سفارتی حمایت کا اعلان کردیا

ایران پر اسرائیلی جارحیت کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران کہا ہے کہ ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں کو پورے خطے اور اس سے باہر کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ’ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گزشتہ ایک گھنٹے میں اسرائیل پر درجنوں میزائل داغے گئے،ایرانی فوج کا دعویٰ

15 رکنی سلامتی کونسل نے تیزی سے پھیلتی ہوئی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے اپنے اصل شیڈول کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کے سربراہ کی بات بھی سنی گئی، انہوں نے اجلاس کو علاقائی استحکام اور جوہری سلامتی دونوں کے لیے سنگین خطرات سے خبردار کیا۔

ایران نے پاکستان، چین، الجزائر اور روس کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایران کے خلاف اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اس ہنگامی اجلاس کے انعقاد میں مدد کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر افتخار احمد نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی اور اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو کا ان کی بریفنگ پر شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اسرائیلی حملوں کی سختی سے مذمت کی اور ایران کے عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا اور جانی و مالی نقصان پر ہمدردی کا اظہار کیا۔

سفیر افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیر قانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیلی فوجی حملے نہ صرف ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی بھی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

غیر ذمہ داری کا نمونہ

پاکستانی سفیر نے غزہ میں جاری فوجی مہم، شام، لبنان اور یمن میں بار بار سرحد پار حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسرائیلی طرز عمل کو امن کے لیے ’خطرناک نمونہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس طرح کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 (4) کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ عسکریت پسندی کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں اور جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 (1974) میں بیان کردہ جارحیت کی کارروائیاں ہیں۔

مزید پڑھیں سعودی عرب ، چین سمیت متعدد ممالک کی ایران پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے دوسرے ممالک کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں پر اسے استثنیٰ دینے کا طرز عمل انتہائی خطرناک ہے، اس کا یہ رویہ اقوام متحدہ کے اختیار کو ختم کرتا ہے اور بین الاقوامی نظام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے رویے کے نتائج پہلے ہی تباہ کن ثابت ہو چکے ہیں – خاص طور پر غزہ میں ، جہاں ’غیر قانونی ناکہ بندی‘ اور وحشیانہ فوجی حملے کے نتیجے میں ہزاروں شہری مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں اسرائیل کے اقدامات نے استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

سفارتکاری اور آئی اے ای اے کو کمزور کرنا

پاکستانی سفیر نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام پر جاری سفارتی مذاکرات کے دوران ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو ’اخلاقی طور پر مکروہ‘ اور اعتماد سازی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ان اقدامات سے مذاکراتی عمل کے اعتماد اور تقدس کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جو ان مسائل کے پرامن حل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حزب اللّٰہ کا ایران اسرائیل جنگ سے دور رہنے کا اعلان سامنے آگیا

سفیر افتخار احمد نے ایران کے جوہری مسئلے کو پرامن مذاکرات اور سفارتی روابط کے ذریعے حل کرنے کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سخت مذاکرات کے نتیجے میں مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کی تعریف کی جس میں تعاون اور باہمی ذمہ داریوں کے لیے ایک واضح فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان حملوں سے ان کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور پہلے سے ہی غیر مستحکم علاقائی صورتحال میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ حملے اس وقت ہوئے جب آئی اے ای اے ایران میں اپنی تصدیق کا کام کر رہا تھا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایجنسی کے تکنیکی آپریشنز میں خطرناک مداخلت ہے۔

سفیر افتخار احمد نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل نے محفوظ جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے بین الاقوامی قانون، آئی اے ای اے کے قانون اور آئی اے ای اے کی متعدد قراردادوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

ایران کا ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان نے ان حملوں سے علاقائی اور عالمی سلامتی کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 487 کا حوالہ دیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس طرح کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں اور آئی اے ای اے کے حفاظتی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

احتساب اور امن کا مطالبہ

پاکستانی سفیر افتخار احمد نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور مزید کشیدگی سے بچیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ’آزمائش کے وقت‘ میں بھی سفارتی روابط اولین ترجیح رہے گی۔ سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ تر بین الاقوامی برادری امن اور استحکام کی خواہاں ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ حملوں کا وقت ایک اور تناظر میں بھی اہم ہے کیونکہ بین الاقوامی برادری 2 ریاستی حل کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنے کے لیے متحد ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اسرائیل کے ’لاپرواہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے‘ کو ان تاریخی کوششوں کو پٹری سے اتارنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات سے عالمی امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لے اور جارحیت کو فوری طور پر روکنے کے لیے کارروائی کرے۔

یہ بھی پڑھیں:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

’ہمیں حملہ آور کا احتساب کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کونسل کو اسرائیل کو اس کھلی چھوٹ اور استثنیٰ سے محروم کرنا چاہیے جس کے ساتھ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

سفیر افتخار احمد نے آخر میں کہا کہ کونسل میں اقوام متحدہ کے چارٹر سے مطابقت رکھنے والے مؤقف اور فیصلے اختیار کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔ انہوں نے سفارتکاری اور تنازعات کے پرامن حل پر نئے سرے سے توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے دفاع کے حق کے غلط استعمال کو مسترد کریں جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ کونسل کو پرامن حل کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *