کینیڈا میں مظاہروں سے استقبال،جی 7 اجلاس کے مرکزی منظر نامے سےمحرو می،واپسی پر طویل سفر،شرمندگی مودی کا مقدر بن گئی

کینیڈا میں مظاہروں سے استقبال،جی 7 اجلاس کے مرکزی منظر نامے سےمحرو می،واپسی پر طویل سفر،شرمندگی مودی کا مقدر بن گئی

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی جو پاکستان سے حالیہ شکستوں  کے بعد اندرونی دباؤ کا شکار تھےکو مزید شرمندگی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب ان کے کینیڈا پہنچنے پرسکھوں اور کشمیریوں نے ان کے خلاف مظاہرے کیے اور انہیں ذلت آمیز مناظر کا سامنا کرنا پڑا۔

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین کی رہنماؤں نے شرکت کی۔

مودی کے علاوہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، جنوبی افریقہ، برازیل، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

مودی 16 جون کی شام قبرص کے راستے البرٹا پہنچے تھے لیکن اس وقت تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل ایران جنگ کی وجہ سے اپنا دورہ مختصر کر دیا تھا اور وہ وطن واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں :پاک امریکہ بڑھتے تعلقات ، بھارت کی سفارتی تنہائی، مودی کی سرپرستی میں چلنے والی جعلی نیوزفیکٹریاں پھر سرگرم

اس صورت حال میں مودی کو مرکزی منظر نامے سے محروم رہنا پڑا اور عالمی رہنماؤں میں نمایاں ہونے کی ان کی خواہش ان کے دل میں رہی فائنل تصویر میں بھی مودی کو جگہ نہ مل سکی۔

مودی کی آمد پر کشمیریوں نے کیلگری میں مظاہرہ کیا جب کہ سکھ برادری بھی البرٹا کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے لگی، اور خالصتان کے حامی رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کا حساب مودی سےمانگا ۔

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو کینیڈا میں جی سیون سربراہی اجلاس کے بعد کروشیا کے راستے نئی دہلی پہنچنے کے لیے اضافی تین گھنٹے کا سفر کرنا پڑا۔

یہ خبر بھی پڑھیں :پہلگام واقعہ کے بھارت کے پاس کوئی ثبوت نہیں، سابق سربراہ بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی کا اعتراف

نریندر مودی جی سیون سربراہی اجلاس کے بعد اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے پر کروشیا کے شہر زگریب پہنچے جہاں وہ نو گھنٹے رہے اور رات گئے کروشیا سے دہلی روانہ ہوئے۔

عام حالات میں نریندر مودی کے طیارے عراق اور ایران کے بعد پاکستانی فضائی حدود سے پرواز کرتے ہوئے تین گھنٹے سے بھی کم وقت میں دہلی پہنچ جاتے تھے۔

تاہم پاکستانی فضائی حدود بھارت کے لیے پہلے ہی بند ہیں اور ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے ایران، عراق اور دیگر ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے مودی کو طویل سفر کی ہزیمت اٹھانا پڑی ۔

یہ خبر بھی پڑھیں :بھارتی تجزیہ کار پروین ساہنی نےمودی دور کو بدترین قرار دے دیا

نریندر مودی کے خصوصی طیارے نے یونان سے مصر کے راستے سوڈان اور پھر ایتھوپیا کے لیے مخالف سمت کا سفر کیا، بعد ازاں طیارے نے بحیرہ عرب کے اوپر سے ممبئی کا سفر کیا اور پھر گجرات سے دہلی کا سفر کیا ایسا لگتا ہے کہ اب زلت اور شرمندگی مودی کا مقدر بن گئی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *