پاکستان نے اپنی مضبوط خارجہ پالیسی، اہم عالمی فورمز پر بھرپور نمائندگی اور مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ اس کے برعکس بھارت اپنے اندرونی مسائل، معاشی ناہمواری، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تنقید کی زد میں ہے جس سے اس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان کی قیادت کی بروقت حکمت عملی اور پُرعزم سفارتکاری نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا بلکہ دنیا بھر میں اپنے موقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔
بھارتی میڈیا کےتجزیہ کاروں کے مطابق جب بھی بھارت نے اپنی عسکری و سیاسی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی پاکستان نے دانشمندی اور تحمل سے جواب دیا، جس کے باعث نئی دہلی اپنے مقاصد میں ناکام رہی۔
ادھر پاکستان میں معاشی اصلاحات، داخلی استحکام اور سائنسی و تکنیکی ترقی کا سفر جاری ہے جو عالمی برادری میں اس کے کردار کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔
دفاعی میدان میں جدید ہتھیاروں کی تیاری، سفارتی تعلقات میں پیشرفت اور امن کے فروغ کی پالیسیوں سے پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کر رہا ہے بلکہ علاقائی خوشحالی کا ضامن بن کر ابھر رہا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں :پاکستان سے شکست، سفارتی ناکامی ،بھارتی عوام اور سوشل میڈیا انفلیوئنسرز کی مودی پر شدید تنقید
مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی یہ کامیابی خطے میں بھارت کی یکطرفہ بالادستی قائم کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں اب کوئی بھی ملک اکیلے سپر پاور نہیں بن سکتا، بلکہ تعاون، مذاکرات اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات ہی دیرپا امن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔