ایران کی جانب سے اسرائیل پر آج ایک اور تازہ حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اسرائیل میں سائرن بج گئے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران کی جانب سے داغے گئے میزائل کو تباہ کردیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورس نی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے مرکزی اسرائیل کی جانب ایک میزائل فائر کیا جسے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے میزائل فائر ہوتے ہی اسرائیل بھر میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کردی گئی تھی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل کے بعد فضائی دفاعی نظام متحرک کردیے گئے ہیں اور اس واقعے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
قبل ازیں ا سرائیل نے تہران کے جنوب مشرقی علاقے پرچین میں فضائی حملہ کیا جس میں فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جب کہ مغربی علاقے کرج میں بھی دھماکے سنے گئے۔
اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح تہران کے جنوب مشرق میں واقع بڑے فوجی کمپلیکس ’پرچین‘ پر حملہ کیا ہے، یہ فوجی کمپلیکس ایران کے حساس دفاعی اور میزائل پروگراموں سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی فضائی حملے ایران کے جنوب مشرقی علاقے پرچین میں کیے گئے ہیں جس کے بعد ایران کا ایئرڈیفنس سسٹم فعال کردیا گیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی نے امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد اہم اور سخت لہجے میں بیان جاری کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں علی شمخانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکی حملے شدید نوعیت کے تھے، مگر ایران کی جوہری صلاحیت اور مزاحمتی قوت باقی ہے اور کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔
ایرانی اعلیٰ رہنما کے مشیر کا واضح الفاظ میں امریکا اور اسرائیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ آئندہ اقدام اب اس فریق کے ہاتھ میں ہے جو ہوشیاری سے کھیلتا ہے اور جذباتی و اندھے فیصلوں سے اجتناب کرتا ہے، یہ سمجھ لیا جائے کہ سرپرائز کا سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے بلکہ جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مشاورت کے بعد ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر بنکر بسٹر بموں اور ٹوم ہاک میزائلوں سے حملہ کیا تھا، ان حملوں کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ایران نے ابھی تک تنصیبات کی مکمل تباہی کی تصدیق نہیں کی۔