خیبرپختونخوا کے خوبصورت اور پرفضا مقام ایوبیہ میں چیئرلفٹ منصوبے پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)، محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اگرچہ وزیرِ اعلیٰ کی تشکیل کردہ کمیٹی کی مداخلت ، بیس فیصد امدن میں حصہ دینے کے باوجود بھی محکمہ جنگلات نے منصوبہ شروع نہ کرنے کیلئے علاقے کو بایوسفیئر ریزروقرار دیدیا ۔
جی ڈی اے نے چیئرلفٹ منصوبے کیلئے ایک نجی فرم کو ٹینڈر دے دیا ہے، جبکہ وہ مقام جہاں چیئرلفٹ قائم کی گئی ہے، وائلڈ لائف کے زیرِ انتظام نیشنل پارک کی حدود میں آتا ہے۔ وائلڈ لائف حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیئرلفٹ کی 58 کنال زمین نیشنل پارک کا حصہ ہے، جسے کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ وائلڈ لائف نے وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو بھی پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات نے بھی منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ چیئرلفٹ اور دیگر سیاحتی سرگرمیوں سے نایاب جنگلی حیات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق نیشنل پارک میں نہ تعمیرات ہو سکتی ہیں، نہ ہی روشنیاں نصب کی جا سکتی ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی مصنوعی تفریح جیسے “ڈائنو سور” کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ابتداء میں محکمہ جنگلات نے منصوبے کے لیے این او سی جاری کی تھی تاہم بعد ازاں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کو معاملے کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی۔ کمیٹی کے اجلاسوں میں محکمہ جنگلات نے چیئرلفٹ سے حاصل ہونے والے منافع میں 50 فیصد حصہ مانگا، جبکہ جی ڈی اے پہلے 5 فیصد اور بعد ازاں 20 فیصد حصہ دینے پر آمادہ ہو گیا۔
کمیٹی نے علاقے کا دورہ بھی کیا، مگر بعد میں جی ڈی اے کو علم ہوا کہ نیشنل پارک میں ہر قسم کی تجارتی یا تعمیری سرگرمیوں پر قانونی طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے کیونکہ محکمہ جنگلات نے مذکورہ علاقے کو بایوسفیئرقرار دیدیا ہے۔ دوسری طرف، حیران کن طور پر محکمہ جنگلات نے اپریل میں ایوبیہ نیشنل پارک میں سیاحت کے فروغ کے لیے اشتہار جاری کر دیا، جس میں کیمپنگ زونز، ہارس رائیڈنگ اور دیگر سیاحتی سرگرمیوں کیلئے سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی۔ مجوزہ معاہدہ ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیے ہوگا، جس میں دو بار توسیع کر کے مجموعی طور پر پندرہ سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جس کمپنی کے زریعے ایوبیہ میں چیئرلفٹ و دیگر سرگرمیاں منعقد کرانے جارہی ہے اس کمپنی کا اور خیبرپختونخوا میں ایک سنیئر بیوروکریٹ کا اپس میں اختلاف چل رہا ہے جس کی وجہ سے یہ رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہے ۔ رابطہ کرنے پر گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان حمد اللہ نے بتایا کہ دو سال کی کوشش کے باوجود بھی محکمہ جنگلات این او سی جاری نہیں کررہاہے اور اب معاملات سلجھ جانے کے قریب تھے کہ انہوں نے علاقے کو بایو سفیئر قرار دیدیا ۔ اس بابت محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فارسٹ افیسر سید تیمور علی شاہ کا موقف جاننے کیلئے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔