ویب ڈیسک : پاکستان علاقائی استحکام کی علامت بن گیا ، امریکا میں سید عاصم منیر اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات نے عالمی بیانیہ بدل دیا۔
واشنگٹن میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات نے نہ صرف عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی بیانیہ بھی تبدیل کردیا ہے ۔
اس اہم اور غیر روایتی ملاقات کو نہ صرف ایک علامتی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے جنوبی ایشیائی تزویراتی توازن کی از سر نو تشکیل کی ابتداء بھی کہا جا رہا ہے۔
یہ ملاقات محض رسمی سفارتی روایت نہیں تھی بلکہ اس نے عالمی بیانیے کو چیلنج کیا اور پاکستان کو ایک بااعتماد، باوقار اور اسٹریٹجک طور پر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے جنرل عاصم منیر سے ملاقات کو “اعزاز” قرار دینا، عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کے اعتراف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی، جو بیک وقت ایران کی ستائش، چین کے اعتماد اور امریکہ کی پذیرائی حاصل کر رہی ہے، ملک کو ایک متوازن علاقائی قوت کے طور پر اجاگر کر رہی ہے۔
اس کے برعکس بھارت، اپنی عسکری جارحیت، داخلی پالیسیوں اور منفی پروپیگنڈے کے باعث عالمی سطح پر تنہائی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی طویل المدتی کوششوں، جن کا مقصد پاکستان کو عالمی منظرنامے سے ہٹانا تھا، اب واضح طور پر ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ پاکستان نے نہ صرف ان چالوں کا مؤثر جواب دیا بلکہ اپنی سفارتی مہارت اور عسکری توازن سے دنیا کو باور کرایا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے۔
‘معرکۂ حق’ نے اس سفارتی بیانیے کو مزید تقویت دی جس میں پاکستان نے تحمل، تدبر اور اسٹریٹجک تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی اشتعال انگیزی کو مؤثر طور پر بے نقاب کیا ، بھارت کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پاکستان نے وقار کے ساتھ اپنی پوزیشن مضبوط کی۔
جنرل عاصم منیر کی قیادت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جنہوں نے عسکری مہارت کے ساتھ ساتھ سفارتی حکمت عملی کا کامیاب امتزاج پیش کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی آمادگی کو بھی ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے اس دیرینہ تنازعے کو ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اب صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں، بلکہ ایک فعال سفارتی قوت کے طور پر ابھرا ہے، جو اپنی شرائط پر بیانیہ طے کر رہا ہے تاہم مستقبل میں اس توازن کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ضرور ہوگا، خاص طور پر جب بھارت عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو بحال کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایک بات واضح ہے کہ پاکستان کو اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا، عالمی سطح پر اس کا کردار، طاقت اور حیثیت دوبارہ تسلیم کی جا چکی ہے اور اس کا سفارتی بیانیہ اب خود اس کے ہاتھ میں ہے۔