پاکستان کا تذکرہ نیٹو اجلاس میں، ڈونلڈ ٹرمپ کی پھر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف

پاکستان کا تذکرہ نیٹو اجلاس میں، ڈونلڈ ٹرمپ کی پھر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھارت کے ساتھ جوہری تنازع کو روکنے میں مدد کا سہرا دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں نے امن کو تجارت سے جوڑ کر دونوں فریقوں کے درمیان صلاح کروائی۔

یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات ٹرمپ کے لیے اعزاز ، بھارتی تلملا اٹھے

یوکرین سے سربیا تک دنیا بھر میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان تنازعات میں سے ‘سب سے اہم’ گزشتہ ماہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کا خوف تھا۔

ایسا نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان اور بھارت کے پاس کسی دن جوہری ہتھیار ہوں گے یا نہیں، جیسا کہ ہم مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جیسا کہ ہم اسرائیل اور ایران کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔

 صدر ٹرمپ نے دی ہیگ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے اختتام پر اپنی نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔

جنوبی ایشیا کے 2 ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان خوفناک تصادم کو تجارت کے بارے میں فون کالز کے ایک بہتر آپشن کے ساتھ اس کا خاتمہ کیا۔ میں نے کہا کہ دیکھو، اگر تم ایک دوسرے سے لڑرہے ہو تو ’یہ بہت برا ہو رہا ہے‘-

انہوں نے بھارت پر پاکستان کے حملے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ آخری حملہ کتنا خوفناک تھا۔ یہ بہت خوفناک تھا۔ میں نے دونوں ممالک کو کہا کہ’ اگر آپ واقعی ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے جا رہے ہیں، تو ہم کوئی تجارت نہیں کریں گے۔‘ ’انہوں نے کہا کہ نہیں، نہیں، نہیں، آپ کو ایک تجارتی معاہدہ کرنا ہوگا‘۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ، عاصم منیر ملاقات ثبوت ہے، پاکستان ایک بڑی طاقت بن چکا ہے، پراوین ساہنی

انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا ایک بار پھر ذکر کیا اور ذاتی طور پر ان کی تعریف کی، انہوں نے کہا کہ ’درحقیقت، میری ملاقات پاکستان کے جنرل سید عاصم منیر سے ہوئی- وہ واقعی بہت متاثر کن تھا، پاکستان کے جنرل پچھلے ہفتے میرے دفتر میں تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ وہ ایک عظیم شریف آدمی ہے۔ وہ ایک عظیم انسان ہے اور میں نے انہیں دلیل دی۔ میں نے کہا کہ ’اگر آپ لڑنے جا رہے ہیں تو ہم کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کر رہے ہیں اور اگر آپ ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں تو ہم کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اور آپ جانتے ہیں کیا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، میں ایک تجارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہوں تو پھر اس طرح ہم نے جوہری جنگ رکوا دی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کلیدی کردار کو پھر اجاگر کیا ۔

اگرچہ ٹرمپ نے اپنے عوامی ریمارکس میں براہ راست جنرل سید عاصم منیر کا نام نہیں لیا لیکن اس سے قبل انہوں نے سید عاصم منیر کو ’ایک غیر معمولی انسان اور ایک متاثر کن شخصیت‘ قرار دیا تھا۔

یہ بیانات بھارت کے سرکاری مؤقف کے برعکس ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی نے مئی کی جھڑپ کے دوران آزادانہ طور پر کام کیا اور واشنگٹن نے ثالثی نہیں کی۔ ٹرمپ کا بیان پاکستان کے اس نقطہ نظر کی حمایت کرتا ہے کہ خاموش امریکی سفارتکاری اور وائٹ ہاؤس کی براہ راست مداخلت نے تناؤ کو کم کرنے میں مدد کی۔

نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستانی ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، بہت سے ممالک سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن وہ خوش نہیں ہیں۔ مختصر یہ کہ اس بیان میں پاکستان کو ایک اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر دیکھنے کے لیے واشنگٹن کے نقطہ نظر کو اجاگر کیا گیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا تہران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے ہفتے کے اوائل میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *