بھارت عالمی امن اور دوسرے ممالک کے لیے مسلسل خطرہ بنتا جا رہا ہے، حال ہی میں بھارت نے نیٹو ممالک کے دفاعی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے، جہاں بھارت کے ایک سیکیورٹی آفیسر نے برطانوی طیارے ایف۔35 کی انتہائی خفیہ ٹیکنالوجی چوری کر کے روس کے حوالے کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی B-2 بمبار طیاروں کے ایران پر حملے کے لیے بھارتی فضائی حدود کا استعمال
آزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق بھارت کے جنوبی شہرتھرواننتاپورم میں ایک بین الاقوامی جاسوسی اسکینڈل نے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں ایک بھارتی سیکیورٹی اہلکار پرالزام سامنے آیا ہے کہ اس نے برطانیہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے ایف-35 بی کی انتہائی خفیہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے نمونے چوری کر کے روسی ایجنٹ کے حوالے کر دیے ہیں۔
ریسرچ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی رائل نیوی کا ایف-35 بی لائٹننگ II طیارہ 14 جون کو تکنیکی خرابی کے باعث تھرواننتاپورم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہوا تھا۔ اس کے بعد طیارے کی مرمت کا عمل شروع ہوا تو اس دوران بھارتی سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف ) کے اہلکاروں کو اس طیارے کی نگرانی پر مقرر کیا گیا۔
Azaad Digital Investigative Brief F35B India Russia by Iqbal Anjum on Scribd
آزاد ڈیجیٹل کی خفیہ تحقیقات کے مطابق یہاں ایک ’سی آئی ایس ایف‘ کانسٹیبل نے مبینہ طور پر طیارے کے ریڈار جذب کرنے والے کوٹنگ (اسٹیلتھ پینٹ) کے ذرات اور نمونے خفیہ طور پر نکال کر تھمبا، کژھاکوڈم کے ایک عوامی پارک میں ایک روسی ایجنٹ کے حوالے کیے۔ روسی ایجنٹ بعد ازاں ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے علاقے سے فرار ہو گیا۔
یہ کوٹنگ کیوں اتنی اہم ہے؟
آزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق لڑاکا طیارے ایف-35 کی اسٹیلتھ صلاحیت صرف اس کے ڈیزائن تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی مخصوص کوٹنگ میں بھی چھپی ہوتی ہے۔ یہ کوٹنگ ایک خفیہ پولیمر پر مبنی مرکب ہے جو ریڈار شعاعوں کو جذب کرتا ہے اور اسے ’لو آبزرویبل (ایل او) ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، محض چند گرام کا نمونہ بھی اس کے کیمیائی اجزا اور انجینئرنگ کے راز افشا کر سکتا ہے، جس سے دشمن ممالک نہ صرف اس ٹیکنالوجی کو کاپی کر سکتے ہیں بلکہ اس کے خلاف مؤثر ریڈار بھی تیار کر سکتے ہیں۔
بھارت اور روس کے دفاعی تعلقات
آزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق اگرچہ بھارت نے حالیہ برسوں میں امریکا، فرانس اور دیگر مغربی طاقتوں کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کیے ہیں، تاہم روس اب بھی بھارت کو سب سے بڑا اسلحہ فراہم کنندہ ہے۔ لڑاکا ایف-35 طیارے کی کوٹنگ کا یہ نمونہ، جو فی الحال مغربی پابندیوں کی زد میں آنے والے روس کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، ممکنہ طور پر ایک “ٹیکنالوجیکل بارٹرکے طور پراستعمال ہو سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی چوری کب اور کیسے ہوئی
آزاد ڈیجیٹل ریسرچ کے مطابق برطانوی لڑاکا طیارے ایف۔35 نے 14 جون کو ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز سے پرواز کے بعد تھرواننتاپورم میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔
15 اور 16 جون کوبھارتی سیکیورٹی فورسز’سی آئی ایس ایف‘ نے برطانوی طیارے کو برطانوی ماہرین کی آمد تک اپنی نگرانی میں لے لیا تھا۔
آزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق 18 جون کی رات سی آئی ایس ایف‘ کے ایک سیکیورٹی گارڈ نے ’بے 4 ‘ میں طیارے کے نیچے سے تقریباً 0.5 گرام پینٹ خفیہ طور پر نکال لیا۔ 19 جون کو 05:10 پر متعلقہ سیکیورٹی افسر نے بھاری رقم لے کر طیارے کا پینٹ تھمبا پارک میں روسی ایجنٹ کے حوالے کر دیا۔
آزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق 19 جون 05:25 پر روسی ایجنٹ کشتی کے ذریعے مغربی سمندر کی طرف روانہ ہو گیا۔
سیکیورٹی خطرات اور ممکنہ اثرات
آزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق ٹیکنالوجی کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے اس سے ایف-35 کی خفیہ ٹیکنالوجی کے افشاء ہونے سے نیٹو کی دفاعی برتری متاثر ہو سکتی ہے۔
بھارت سے اس طرح کی چوری کے واقعے سے برطانیہ اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بد اعتمادی بڑھے گی، اعتماد میں دراڑ سامنے آئے گی، برطانیہ نے پہلے ہی بھارت کو طیارہ ہینگر منتقل کرنے سے منع کیا تھا، اب یہ واقعہ ان کے باہمی اعتماد کو مزید مجروح کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ’کواڈ (کیو یو اے ڈی) اور انٹیلیجنس شیئرنگ پر اثرات مرتب ہوں گے، امریکا اور آسٹریلیا بھارت پر دفاعی بھروسے پر نظرِثانی کر سکتے ہیں۔
بھارت ممکنہ طور پر کیا کر سکتا ہے
آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت اس عالمی غفلت پر سفارت تعلقات بچانے کی کوشش کرے گا، طیارے کو خاموشی کے ساتھ واپس بھیجنے کی کوشش کرے گا تاکہ برطانیہ اس معاملے کو دبا دے، بھارت متعلقہ سیکیورٹی اہلکار کو ذاتی لالچ کی کہانی بنا کر پیش کرے گا اور متعلقہ اہلکار کو گرفتار کر لے گا۔
تجویز کردہ اقدامات
آزاد ڈیجیٹل ریسرچ کے مطابق برطانیہ و نیٹو کے لیے ضروری ہے کہ طیارے کی فارنزک جانچ کی جائے، غیر نیٹو ممالک میں کھلی رسائی پر نظرثانی کی جائے، جبکہ بھارت کی اس غفلت پر آزاد عدالتی تحقیقات کی جائیں، سی سی ٹی وی، لاگز اور شواہد کی شفاف فراہمی کی جائے۔
آزاد ڈیجیٹل ریسرچ کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف برطانیہ اور بھارت کے باہمی اعتماد میں بڑی دراڑ پیدا کرتا ہے بلکہ بھارت کی ’کثیر جہتی خارجہ پالیسی‘ کے مغربی دفاعی شراکت داری سے مطابقت پربھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں بھارت کے ردعمل سے طے ہوگا کہ یہ ایک الگ واقعہ تھا یا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی اور سازش تھی۔