کیا بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کا حصہ رہ پائے گا؟ سفارتی انکار کا سنگین نتیجہ ہوسکتا ہے، ماہرین

کیا بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کا حصہ رہ پائے گا؟ سفارتی انکار کا سنگین نتیجہ ہوسکتا ہے، ماہرین

بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ وزرائے دفاع کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کے بعد بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مس واقعے کے بعد بھارت کو تنظیم سے مستقل طور پر نکالا بھی جا سکتا ہے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ اعلامیے میں 22 اپریل کو کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا ذکر نہیں کیا گیا جس میں 26 بھارتی سیاح ہلاک ہوئے تھے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اعلامیہ پاکستان کے مؤقف سے زیادہ مطابقت رکھتا تھا کیونکہ اس میں بلوچستان کی صورتحال کا ذکر تھا لیکن کشمیر کے واقعے کو نظر انداز کر دیا گیا۔

 یہ خبر بھی پڑھیں :شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت کے الزامات مسترد، پاکستان کو ایک اور سفارتی فتح مل گئی

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطے کی سیکورٹی صورتحال پر شواہد کی بنیاد پر تفصیلات پیش کیں جن میں جعفر ایکسپریس پر حملہ اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سرگرمیاں شامل تھیں۔

ان بیانات کے بعد بھارت نے دوبارہ بات کرنے کی درخواست کی لیکن میزبان ملک چین نے ایس سی اوکے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

اس ردعمل سے ناراض ہو کر بھارت نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، جس سے وہ خود تنہا رہ گیا جبکہ دیگر تمام رکن ممالک نے اعلامیے پر دستخط کیے۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کا ردعمل اس کی خطے اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔

کشیدگی میں مزید اضافہ “آپریشن سندور” کے بعد ہوا جس نے بھارت کے ہمسایہ ممالک اور  شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔

اگرچہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو آخری لمحات میں جی 7 اجلاس میں مبصر کے طور پر مدعو کیا گیا، لیکن انہیں مرکزی گروپ فوٹو میں شامل نہیں کیا گیا اور اہم اجلاسوں کے دوران نظر انداز کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں تعاون سے انکار بھارت کی علاقائی سکیورٹی کے مباحثوں میں پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں چین، روس، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک شامل ہیں، خطے میں سلامتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر بھارت نے یہی رویہ جاری رکھا تو اسے شنگھائی تعاون تنظیم سے رکنیت کے اخراج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *