بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ وزرائے دفاع کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کے بعد بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مس واقعے کے بعد بھارت کو تنظیم سے مستقل طور پر نکالا بھی جا سکتا ہے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
Read more: https://t.co/VFnxkBhjoi#AzaadEnglish #AzaadDigital pic.twitter.com/LxP03OOoJr
— Azaad English (@azaad_english) June 26, 2025
ان کا مؤقف تھا کہ اعلامیے میں 22 اپریل کو کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا ذکر نہیں کیا گیا جس میں 26 بھارتی سیاح ہلاک ہوئے تھے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اعلامیہ پاکستان کے مؤقف سے زیادہ مطابقت رکھتا تھا کیونکہ اس میں بلوچستان کی صورتحال کا ذکر تھا لیکن کشمیر کے واقعے کو نظر انداز کر دیا گیا۔
یہ خبر بھی پڑھیں :شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت کے الزامات مسترد، پاکستان کو ایک اور سفارتی فتح مل گئی
پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطے کی سیکورٹی صورتحال پر شواہد کی بنیاد پر تفصیلات پیش کیں جن میں جعفر ایکسپریس پر حملہ اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سرگرمیاں شامل تھیں۔
ان بیانات کے بعد بھارت نے دوبارہ بات کرنے کی درخواست کی لیکن میزبان ملک چین نے ایس سی اوکے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
اس ردعمل سے ناراض ہو کر بھارت نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، جس سے وہ خود تنہا رہ گیا جبکہ دیگر تمام رکن ممالک نے اعلامیے پر دستخط کیے۔
#BREAKING: India likely to be dropped from SCO permanently, after it refused to sign a joint statement against Israel also. pic.twitter.com/dosMYxPhB8
— Ironclad (@NavCom24) June 26, 2025
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کا ردعمل اس کی خطے اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔
کشیدگی میں مزید اضافہ “آپریشن سندور” کے بعد ہوا جس نے بھارت کے ہمسایہ ممالک اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔
🚨BREAKING: India likely to be dropped from SCO permanently, after it refused to sign a joint statement. pic.twitter.com/rPI16F8W7j
— The Daily CPEC (@TheDailyCPEC) June 26, 2025