امریکا کیساتھ دوبارہ مذاکرات ، ایرانی وزیر خارجہ نے تردیدکردی

امریکا کیساتھ دوبارہ مذاکرات ، ایرانی وزیر خارجہ  نے تردیدکردی

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکا کیساتھ جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کی تردیدکردی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات بحال ہونے کا امکان مسترد کر دیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی  کے مطابق ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں عباس عراقچی نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں امریکا کی شمولیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ جب ایران اسرائیلی جارحیت سے قبل امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں اپنے عوام کے حقوق کا تحفظ کر رہا تھا تو واشنگٹن نے مذاکرات سے مایوسی کے بعد دوسرا طریقہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان نہیں، امریکی صدر

عباس عراقچی نے ایران پر امریکی فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے سفارتکاری اور مذاکرات سے غداری قرار دیا۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی کہ  ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات اگلے ہفتے ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی، فی الحال مذاکرات کا موضوع بحث میں نہیں ہے۔

عباس عراقچی نے وضاحت دی کہ ایران سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے لیکن امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انٹرویو میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تہران کے جوہری افزودگی کے پروگرام کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر خارجہ نے کہا کہ نقصانات معمولی نہیں ہیں لیکن جائزہ لے رہے ہیں، یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ صورتحال مذاکرات کیلیے ٹھیک ہے یا نہیں۔

ایران کا بغیر کسی رکاوٹ جوہری پروگرام جاری رکھنے کا اعلان

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اگلے ہفتے ایران سے بات کرنے جا رہا ہے ہم ممکنہ طور پر ایک معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *