ویب ڈیسک : کبھی پس پردہ اور خفیہ رہنے والے بھارت–اسرائیل دفاعی تعلقات آج ایک کھلی اور مضبوط شراکت داری میں بدل چکے ہیں، 1992 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے یہ اشتراک جدید ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس تعاون اور اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر مبنی ایک تزویراتی اتحاد بن چکا ہے، یہ تحریر اسی سفر کی داستان بیان کرتی ہے۔
بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات نے ابتدائی خفیہ تعاون سے قدم بڑھا کر اب ایک مضبوط اور اسٹریٹیجک شراکت داری کا روپ دھال لیا ہے، جو کھلے سفارتی تعلقات اور جدید فوجی ٹیکنالوجی میں فعال اشتراک سے نمایاں ہے۔
1960 سے مشترکہ سلامتی مفادات کے پیش نظر بھارت اور اسرائیل نے دفاعی شراکت داری قائم کی اور 1992 میں اسے باقاعدہ انداز میں تقویت ملی ۔
“India’s Israel Policy” نامی کتاب کے مطابق پروفیسر پی آر کمارسوامی جوکہ نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ اور اسرائیلی سیاست کے ماہر ہیں ، بتاتے ہیں کہ 1962 میں چین کے خلاف جنگ میں بھارت نے اسرائیل سے خاموشی سے مدد طلب کی تھی ۔
1962 کی چین بھارت جنگ اور 1965 کی بھارت–پاکستان جنگ کے دوران، اسرائیل نے بھارت کو توپ کے گولے اور دیگر عسکری مدد فراہم کی اگرچہ یہ بات عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
لہذا یہ اسرائیلی- بھارتی گٹھ جوڑ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ ان کا فوجی تعاون مضبوط ہوتا جارہا ہے جو کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ تعاون صرف خطے میں بے چینی پیدا نہیں کر رہا بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگین تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ابتدائی رابطے اور خفیہ تعاون
1992 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے سے قبل، بھارت اور اسرائیل خفیہ انداز میں دفاع اور انٹیلیجنس کے شعبوں میں تعاون کر رہے تھے۔
1962 اور 1965 کی جنگوں میں اسرائیل نے بھارت کو توپخانے کے گولے اور گولہ بارود فراہم کیا۔
1960–70 کی دہائی میں، وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے ساتھ خفیہ رابطے کی منظوری دی تاکہ پاکستانی اور چینی سرپرستی میں کام کرنے والے باغی گروہوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
1991–1992: باضابطہ سفارتی تعلقات
جب سرد جنگ کا اختتام ہوا اور سوویت یونین ٹوٹا تو بھارت کو ہتھیاروں کی فراہمی کے نئے ذرائع درکار تھے ، اسی دوران، اسرائیل اپنی دفاعی صنعت کو نئے منڈیوں میں پھیلانا چاہتا تھا۔
لہذا جنوری 1992 میں، بھارت اور اسرائیل نے رسمی طور پر سفارتی تعلقات قائم کیے، جس سے دفاعی میدان میں کھلے تعاون کا راستہ کھلا۔
دفاعی تعلقات کی تیز رفتار توسیع
1990 کی دہائی کے آخر تک، اسرائیل روس اور فرانس کے ساتھ بھارت کے تین بڑے دفاعی سپلائرز میں شامل تھا۔
1992 میں تقریباً کوئی تجارت نہ ہونے کے بعد، 2000 کی دہائی کے آخر تک اسرائیلی دفاعی فروخت بھارت کو سالانہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
اسرائیل نے جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جو امریکہ یا یورپی ممالک براہِ راست بھارت کو فراہم کرنے سے ہچکچاتے تھے۔
کارگل جنگ 1999: دفاعی تعلقات کا سنگِ میل
مودی دور میں 1999 کی پاکستان کے ساتھ کارگل جنگ نے بھارت-اسرائیل دفاعی تعلقات کو نئے بلندیوں پر پہنچایا اور اس جنگ کے دوران، اسرائیل نے بھارت کو سرچ ڈرونز، لیزر گائیڈڈ بم، اور ریل ٹایم کا انٹیلی جنس فراہم کیا جس سے اس کے قابلِ اعتبار اتحادی ہونے کا ثبوت ملا۔
بڑے دفاعی معاہدے
2000 کی دہائی میں بھارت اور اسرائیل نے کئی اہم دفاعی معاہدے کیے، جو مندرجہ زیل ہیں:
2004 میں 1.1 ارب ڈالر کا معاہدہ، تین فالنکن AWACS سسٹمز کی روسی طیاروں (IL-76) پر تنصیب کے لیے
بھارتی بحری جہازوں کو سرشار میزائل سے بچانے کے لیے بارک-1 میزائل کی خریداری؛
ہیمن اور سرچر ماڈلز سمیت بغیر پائلٹ طیارے (UAVs) کی فراہمی
بھارت کے DRDO کے ساتھ مشترکہ طور پر بارک-8 (LRSAM) لمبے فاصلے تک پرواز کرنے والے میزائل پر کام کیا گیا
ریڈار، رات میں دیکھنے والی ڈیوائسز، محفوظ کمیونیکیشن سسٹمز اور دیگر الیکٹرانک وارفیئر آلات کی فراہمی۔
2010 تک بھارت نے اسرائیل کے ساتھ 5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے دفاعی معاہدے کیے اور بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا عسکری سامان خریدار بن گیا۔
انٹیلی جنس کا اشتراک
پاکستانی اور جوہری و میزائل ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت اور اسرائیل نے انٹیلی جنس تعاون مضبوط کیا۔
موساد اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی RAW نے اشتراک کیا، خاص طور پر انسدادِ دہشت گردی کے تربیتی پروگرامز میں۔
2008 کے ممبئی حملوں کے بعد، اسرائیلی سلامتی مشیروں نے بھارتی اداروں کی گھریلو سیکیورٹی بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔
سیاسی حساسیت
امریکہ بعض فوجی ٹیکنالوجی براہِ راست بھارت کو فراہم کرنے میں ہچکچاتا رہا، لیکن اسرائیل کو اجازت دے دی کہ وہ انہی ٹیکنالوجیز کو بھارت تک پہنچائے۔
کماراسوامی کے مطابق مغربی دفاعی ٹیکنالوجی سے مربوط ہونے کے لیےاسرائیل نے ایک پل کا کردار ادا کیا۔
بھارت کے مقاصد
کماراسوامی نے واضح کیا کہ بھارت نے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کا فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ عملی وجوہات پر مبنی تھا، جن میں جدید ہتھیاروں تک رسائی ، تیز تر فراہمی اور نظاموں کی تخصیص ، ہنگامی صورتحال میں قابلِ اعتماد معاونت اور عوامی دفاعی اداروں کے ساتھ تعاون اور تکنیکی معلومات کا اشتراک شامل تھا۔
کلیدی اعداد و شمار
2002–2009 کے دوران، اسرائیل بھارت کو ہتھیار دینے والا دوسرا سب سے بڑا سپلائر تھا، کچھ سالوں میں اسرائیل کی نصف برآمدات بھارت کو جاتی تھیں۔
آلات کی قدر کے لحاظ سے 2000 کی دہائی میں بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا ہتھیار خریدار بنا۔
اسرائیلی دفاعی صنعت کی معروف کمپنیوں میں شامل ہیں: Israel Aerospace Industries (IAI)، Elbit Systems، اور Rafael Advanced Defense Systems۔
خلاصہ: بھارت–اسرائیل دفاعی تعلقات
کماراسوامی لکھتے ہیں کہ بھارت–اسرائیل دفاعی تعلقات نے بھارت–اسرائیل اتحاد کی بنیاد رکھی ، انہوں نے دلیل دی کہ یہ تعلق نظریاتی ہم آہنگی پرنہیں بلکہ مشترکہ سلامتی کے خدشات اور “عملی ضروریات پر قائم تھا۔
بھارت کی سیاسی قیادت میں جو تبدیلیاں آئیں ان کی بدولت دفاعی تعاون برقرار رہا اور مسلسل مضبوط بھی ہوتا گیا۔