مودی کے بھارت میں کوئی عورت محفوظ نہیں: کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی

مودی کے بھارت میں کوئی عورت محفوظ نہیں: کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی

ویب ڈیسک۔ آر جی کار کیس کے چند مہینوں بعد بھارت کے شہر کولکتہ میں قانون کی ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، یہ افسوسناک واقعہ بھارت میں خواتین کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ کولکتہ کے کاسبہ علاقے میں واقع ایک لاء کالج میں بدھ کی شام تقریباً 7:30 بجے سے 8:50 کے درمیان ایک کمرے میں پیش آیا۔ اس سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 31 سالہ منوجیت مشرا شامل ہے، جو ساؤتھ کلکتہ لاء کالج کا سابق طالبعلم اور موجودہ وکیل ہے۔ دیگر دو ملزمان، زیب احمد اور پرمیت مکھرجی، اسی ادارے کے موجودہ طالبعلم ہیں۔

منوجیت مشرا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں منوجیت مشرا کو ترنمول کانگریس کے اہم رہنماؤں، بشمول وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے اور پارٹی لیڈر ابھیشیک بنرجی، کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ دیگر تصاویر میں وہ ریاستی وزیر چندریما بھٹاچاریہ اور وزیراعلیٰ کی بھابھی اور کونسلر کاجری بنرجی کے ساتھ بھی نظر آ رہا ہے۔

تینوں گرفتار ملزمان کو چار روزہ پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں خواتین سیاحوں کے لیے خطرات میں تشویشناک اضافہ

یہ واقعہ صرف جرم ہی نہیں بلکہ ریاست میں امن و قانون کی صورتحال پر بھی شدید تنقید کا باعث بنا ہے۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں امن و امان کی “مکمل ناکامی” قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

یہ افسوس ناک واقعہ اس سے قبل آر جی کار میڈیکل کالج میں پیش آنے والے کیس کی یاد دلاتا ہے، جہاں ایک نوجوان خاتون کو سیمینار روم میں زیادتی، تشدد اور گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں ملوث سول پولیس رضاکار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، مگر بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ سزا جرم کی سنگینی کے مقابلے میں ناکافی تھی۔

حالیہ دنوں میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد کے واقعات نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ 22 جون کو ریاست راجستھان کے شہر ادے پور میں ایک فرانسیسی خاتون سیاح کے ساتھ ایک نجی کمپنی کے ملازم کی جانب سے زیادتی کی گئی، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارت کے لیے عالمی شرمندگی قرار دیا۔

سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے خبردار کیا کہ امریکہ نے بھی بھارت کے لیے خواتین سیاحوں کے حوالے سے حفاظتی انتباہ جاری کیا ہے، جو بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کا ثبوت ہے۔ اس سے قبل مارچ میں کرناٹک کے شہر ہمپی میں ایک اسرائیلی سیاحہ اور اس کے میزبان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جسے بی بی سی نے رپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ہر شعبے میں رسوا و ناکام، بھارت خواتین کے لیے دنیا کا غیر محفوظ ترین ملک قرار

عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2018 سے 2025 کے درمیان بھارت میں سالانہ 30,000 سے 34,000 ریپ کیسز رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جو کہ ہر 15 منٹ میں ایک ریپ کے مترادف ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 16 جون 2025 کو بھارت کے لیے اپنے سفری انتباہ کو “لیول 2: ہوشیاری کے ساتھ سفر کریں” کی سطح پر برقرار رکھا، جس میں جرائم اور دہشت گردی کے خطرات کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ “ریپ بھارت میں تیزی سے بڑھتے ہوئے جرائم میں سے ایک ہے”، خاص طور پر سیاحتی مقامات پر۔

اسی نوعیت کی وارننگ کینیڈا نے بھی جاری کی ہے، اور خواتین کو تنہا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق 2014 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 337,922 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جو 2022 تک بڑھ کر 445,256 ہو گئے، یعنی صرف آٹھ سالوں میں ایک لاکھ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے خواتین شہریوں کیلئے بھارت کے سفر سے متعلق نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *