ڈونلڈ ٹرمپ آیت اللہ خامنہ ای پر برہم، نئے حملوں کی دھمکی

ڈونلڈ ٹرمپ آیت اللہ خامنہ ای پر برہم، نئے حملوں کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران نے اپنا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام دوبارہ شروع کیا تو مزید فوجی کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا پر حملے سے باز رہے، ٹرمپ کا انتباہ ، اسرائیل کیساتھ ثالثی کی پیشکش

یہ انتباہ جمعہ کو ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر شیئر کی جانے والی ایک پوسٹ میں سامنے آیا، جہاں صدر نے اسرائیل کے ساتھ حالیہ 12 روزہ تنازع میں ’فتح‘کے خامنہ ای کے دعوؤں کا جواب دیا۔ ٹرمپ نے ایرانی رہنما پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کی حکومت نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو ‘ختم’ کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے اوائل میں فورڈو، اصفہان اور نطنز میں ایرانی تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے ملک کو تباہ کر دیا گیا، ان کی 3 جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے خامنہ ای پر فیصلہ کن حملے کو روکنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کی تھی، باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ ‘انہیں کہاں پناہ دی گئی ہے’ اور اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور اسرائیل دونوں ایرانی رہنما کو ختم کر سکتے تھے۔

خامنہ ای نے اس ہفتے کے اوائل میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر جوابی میزائل حملے کرکے امریکا کے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس تنازع سے فتح یاب ہوا ہے، جس میں سرحد پار شدید حملے ہوئے ہیں اور یہ دونوں مخالفین کے درمیان برسوں میں سب سے سنگین کشیدگی میں سے ایک ہے۔

ٹرمپ نے ان دعوؤں کو ’غصے  اور نفرت کا بیان‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ان بیانات نے انہیں پابندیوں میں نرمی اور تہران کے ساتھ ممکنہ سفارتی روابط کی کوششوں کو روکنے پر مجبور کیا ہے۔

مزید پڑھیں:او آئی سی کی ایران پر حملوں کی شدید مذمت، اسرائیل و امریکا کو عالمی قوانین کا پابند بنانے کا مطالبہ

اس سے قبل اسی روز وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری دوبارہ شروع کی تو کیا مزید فوجی کارروائی کی جائے گی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر جواب دیا کہ ’یقینا، بغیر کسی سوال کے، بالکل، دوبارہ کارروائی کی جائے گی۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد ایرانی پارلیمان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے لیے قانون منظور کیا تھا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی واچ ڈاگ کی بمباری کے مقامات تک رسائی مؤثر طور پر بند ہو گئی تھی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تہران ممکنہ طور پر آئی اے ای اے کی معائنے کی درخواستوں کو مسترد کر دے گا، انہوں نے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے تنصیبات کا دورہ کرنے پر اصرار کو ’بے معنی‘ اور ممکنہ طور پر ’ارادے کے لحاظ سے نقصان دہ‘  قرار دیا۔

عراقچی نے متنبہ کیا کہ ایران اپنے مفادات، اپنے عوام اور اپنی خودمختاری کے دفاع میں کوئی بھی قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

گروسی نے اس ہفتے کے اوائل میں اس بات پر زور دیا تھا کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں تک رسائی بحال کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ 13 جون کو اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے کوئی معائنہ نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیل مسلسل دباؤ میں

دریں اثنا، اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی پوزیشن میں اضافہ کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسرائیلی دفاعی افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ‘انفورسمنٹ پلان’ تیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں اسرائیل کی فضائی برتری کو برقرار رکھنے، جوہری ترقی اور میزائل کی پیداوار کو روکنے اور اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں کی حمایت کرنے پر ایران کو جواب دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اسرائیلی حکومت مسلسل تہران پر حزب اللہ اور حماس سمیت خطے بھر میں عسکریت پسند گروہوں کو مسلح کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے انکار کیا ہے۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے منصوبے کے ٹرمپ کے دعوؤں پر تنقید

ادھر ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو روکنے کا دعویٰ کرنے والے ‘توہین آمیز اور ناقابل قبول’ بیان پر شدید تنقید کی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ اس طرح کے بیانات سے دشمنی مزید بڑھے گی اور سفارتی تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ معاہدے کے خواہاں ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں توہین آمیز اور ناقابل قبول لہجے کو بالائے طاق رکھنا چاہیے اور اپنے لاکھوں حامیوں کو تکلیف پہنچانا بند کرنا چاہیے۔

یہ بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل اور امریکی فوج کو ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے دوران خامنہ ای کو شہید کرنے سے روکنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کی تھی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *