ماہ رنگ بلوچ کی نظر بندی میں مزید توسیع

ماہ رنگ بلوچ کی نظر بندی میں مزید توسیع

بلوچستان حکومت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور 4 دیگر رہنماؤں کی امن عامہ (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں مزید 15 روز کی توسیع کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچ یکجہتی کمیٹی کے 150 کارکنوں کے حراستی احکامات واپس، ماہ رنگ بلوچ سے متعلق بھی اہم فیصلہ

’بی وائی سی‘ کے دیگر رہنماؤں بیبو بلوچ، ان کے والد غفار بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کو 22 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا اور ایم پی او 3 کے تحت کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ یہ ان کی نظر بندی میں چوتھی توسیع ہے۔ حراست میں 3 ماہ مکمل کرنے کے بعد حکام نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ان کی قید میں مزید 15 دن کی توسیع کی گئی ہے۔

کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ حمید اللہ پیچی نے اس توسیع کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے متعلقہ حکام کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کی نظر بندی میں مزید 15 روز کی توسیع کے احکامات موصول ہوئے ہیں، وہ مزید 15 دن جیل میں رہیں گے۔

بی وائی سی کے ترجمان نے بار بار توسیع پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور نئے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا، انہوں نے تمام زیر حراست رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں:بلوچستان ہائیکورٹ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کیخلاف درخواست مستردکردی

بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر سبیہ بلوچ کا کہنا تھا کہ 3 ماہ بعد ان رہنماؤں کی مسلسل حراست غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ انہوں نے حکومت پر ان کی قید کو طول دینے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ ماہ رنگ بلوچ اور 150 سے زیادہ دیگر سیاسی کارکنوں کو 22 مارچ کو بلوچستان یونیورسٹی کے قریب ایک دھرنے والے کیمپ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ احتجاج بولان میں جعفر ایکسپریس پر حملے اور ہائی جیکنگ میں ملوث افراد کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کے حوالے کرنے کے مطالبے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

محکمہ داخلہ نے دیگر قیدیوں کی گرفتاری کے احکامات واپس لے لیے اور انہیں رہا کر دیا۔ تاہم ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے 4 دیگر رہنماؤں کی نظر بندی کے احکامات واپس نہیں لیے گئے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *