سانحہ سوات: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی 12 سالہ ناکامیاں بے نقاب، عوام غم و غصے میں، مردہ باد کے نعرے لگ گئے

سانحہ سوات: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی 12 سالہ ناکامیاں بے نقاب، عوام غم و غصے میں، مردہ باد کے نعرے لگ گئے

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں 18 افراد کی جانوں کو بچانے میں ناکامی کے بعد خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت اور اس کے قدرتی آفات سے نمٹنے کا نظام اور ناکامیاں بری طرح بے نقاب ہو گئی ہیں، عوام حکومت کے خلاف سخت غم و غصے میں ہے، سڑکوں پر علی امین گنڈاپور مردہ باد کے نعرے لگ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ سوات: خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت نے ’’بے شرمی‘‘ کی انتہا کردی، منصورعلی خان کی کڑی تنقید

عوام، سول سوسائٹی اور اپوزیشن رہنما سوات کے جمعہ کو سانحے سوات کو تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ 12 سالہ ’بدانتظامی اور ناقص حکمرانی‘ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جہاں 12 سالہ حکمرانی کے باوجود عوام کو بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔

خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارہ صوبائی ڈیزآسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) حکومت کے ماتحت کام کرتا ہے، جو ایسی تمام قدرتی آفات اور سانحات میں فوری امداد اور رسپانس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لیکن سوات کا حالیہ واقعہ اس نظام کی مکمل ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

سانحہ سوات قدرتی نہیں، حکومتی غفلت

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’سوات میں جو کچھ بھی ہوا وہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ یہ خیبر پختونخوا میں 12 سالہ بدترین حکمرانی کا نتیجہ بھی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے نہ بروقت وارننگ جاری کی، نہ کوئی ریسکیو آپریشن کی کوشش کی، نہ ہی اس حوالے سے کوئی تیاری نظر آئی، سب کچھ مکمل طور پر ناکام رہا۔ اور یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل بھی خیبر پختونخو میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں کہیں بھی حکومت یا اس کا کوئی نظام نظر آیا ہے‘۔

مزید پڑھیں:سانحہ سوات، تین بڑے افسران کو نوکری سے معطل کر دیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھاری فنڈز ہونے کے باوجود سیلاب، زلزلوں اور دیگر آفات کے دوران پی ٹی آئی حکومت 12 سال میں ایک فعال اور مؤثر ڈیزآسٹر ریسپانس سسٹم بنانے میں ناکام رہی ہے۔

جھوٹ، انکار اور دھوکا دہی

خیبر پختونخوا میں 2013 سے برسرِ اقتدار رہنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر پہلے بھی عوامی تحفظ میں ناکامی اور بنیادی ڈھانچے کی عدم تعمیر کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’کے پی کے‘ حکومت اپنی ناکامیوں پر ہر بار جوابدہی کے بجائے جھوٹ، انکار اور توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

سوات کے ایک مقامی سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ ’سانحہ سوات پر ’کے پی کے‘ حکومت کا کوئی جواب ہے، نہ شرمندگی اور نہ ہی اس سے کوئی سبق سیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے 2 چیزوں میں مہارت حاصل کر لی ہے، ان میں سے ایک مسلسل جھوٹ بولنا اور دوسرا عوام کو دھوکے میں رکھنا‘۔

خیبر پختونخوا حکومت کی ناکامی پر قیمت کون چکا رہا ہے؟

سانحہ سوات میں ان 18 افراد کے اہلِ خانہ کے لیے یہ معاملہ صرف سیاسی نہیں بلکہ دل دہلا دینے والا ذاتی المیہ ہے۔ مقامی شہریوں نے ریسکیو میں تاخیر، بروقت ردِعمل اور بنیادی امدادی سہولیات کی کمی کی شکایات کی ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’ ہم مدد کے لیے چیختے رہے، لیکن گھنٹوں تک یہاں کوئی نہیں آیا، اگر پی ٹی آئی کی 12 سالہ حکمرانی کا یہی نتیجہ ہے تو پھر ہمیں کسی سے امید نہیں رکھنی چاہیے‘۔ کیونکہ حکومتی ناکامیوں کی قیمت بھی عوام ہی چکا رہے ہیں۔

’کے پی کے‘ پی ڈی ایم اے کہاں ہے؟

’کے پی کے‘ میں ’پی ڈی ایم اے‘ جو کہ صوبے کا مرکزی ادارہ ہے، اس کی موجودگی سوات کے واقعے میں نہ ہونے کے برابر رہی، نہ کوئی فوری ردعمل سامنے آیا، نہ کوئی مؤثر منصوبہ بندی نظر آئی، جس سے خیبر پختونخوا حکومت کی قدرتی آفات کے لیے تیاری اور کارکردگی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کرم میں حالات تشویش ناک ، کے پی کے حکومت غیر سنجیدہ ہے،امیر حیدر ہوتی

جب سوات کے سانحے پر عوام اپنے پیاروں کے غم میں ڈوبے ہیں تو خیبر پختونخوا میں ایک بڑی حقیقت بھی بے نقاب ہو رہی ہے  کہ ’12 سالہ حکومت کے باوجود، وہ نظام جو عوام کو آفات میں بچانے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ نظام کہاں ہے؟ جب حکومت اس پر خاموش ہے تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا کبھی ان ناکامیوں کا کوئی تو جواب دے گا؟

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف نعرے

دوسری جانب سانحہ سوات پر ہفتے کے روز عوام سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کی جانب سے ریسکیو میں ناکامی پر شدید احتجاج کیا، مظاہرین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور مردہ باد کے نعرے لگائے اور فوری عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *