میر عطاءالرحمن مینگل شہید بلوچستان میں طاغوتی قوتوں کے خلاف عزم و ہمت کا استعارہ تھے، میر ندیم الرحمان نے فتنہ الہندوستان بارے بھی اہم انکشاف کر دیا۔
وڈھ پ ر جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی سینئر میر ندیم الرحمن، نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایک مخصوص گُروہ کی غلامی فتنہ الہندوستان کے زوال کی سب سے بڑی نشانی ہے نِت نئے ناموں سے چُھپ کر وار کرنا مذکورہ گُروہ کا وطیرہ رہا ہے یہ وہ گُروہ ہے جس نے نسل در نسل سے بیرونی آلہ کاری کا ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے جس نے ہمیشہ دوغلا پن اور منافقت سے ننگ و ناموس کو ایمان اور غیرت فروشی کو اپنا ہتھیار بناکر عام عوام کی عقل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
اِسی نام نہاد گُروہ نے اپنے ذاتی مفادات شُہرت اور انگریز کی دی ہوئی سرداری کو بچانے کی خاطر فتنہ فساد کو ہوا دے کر بلوچستان کو آگ اور خون میں دھکیلا ہے۔،
جھالاوان پینل کے رہنما کا کہنا تھا کہ تحریک حُریت کے سُرخیل قائد میر عطاءالرحمن مینگل کی شہادت میں ملوث شیطانی گُروہ اور اُن کے سہولتکاروں کو شیطانی مہارت اور شیطانی چالیں اب کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔
بلوچستان کا بچہ بچہ اِن شیطانوں کی منافقت سے بخوبی آگاہ ہوچکا ہے اُن کیلئے بہتر ہوگا کہ حقیقت کو تسلیم کرکے منافقانہ طرز عمل سے باز رہیں، گمراہ کُن بیانات دینے والے مختلف لوگوں کی ذہنی غلامی پر ترس آتا ہے جنھوں نے دو دہائیوں سے اندھی تقلید میں اپنا اور بلوچستان کے عوام کا خون چوسنے والے بد نما گروہ کے بدنما کرداروں کو سہولت فراہم کی ہے۔
میر ندیم الرحمن نے مزید کہا کہ سُرخیل شہید کے خون سے انقلاب کی لہر بلوچ براہوئی خطے کو امن کا گہوارہ بنائے گی۔