ایئر انڈیا کی بدانتظامی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جب امرتسر سے دہلی جانے والی پرواز میں لینڈنگ سے پہلے دو مسافروں کے درمیان جھگڑا ہو گیا،یہ واقعہ نہ صرف ایئرلائن کی سیکورٹی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس کے عملے کی پیشہ ورانہ تربیت پر بھی کئی شکوک پیدا کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جب طیارہ دہلی میں لینڈ کرنے والا تھا ایک مسافر اچانک اپنی سیٹ سے اٹھا اور دوسرے مسافر سے جھگڑنے لگا۔ عملے نے تاخیر سے مداخلت کی اور متاثرہ شخص کو بزنس کلاس کی خالی سیٹ پر منتقل کیا تاکہ پرواز پرسکون طریقے سے لینڈ ہو سکے۔
بعد ازاں جھگڑا کرنے والے مسافر کو دہلی ایئرپورٹ پر سیکورٹی کے حوالے کیا گیا،تاہم یہ صرف مسافروں کا جھگڑا ہی نہیں بلکہ ایک اور مسافر نے فلائٹ کریو پر بدتمیزی کا الزام لگایا جو عملے کے تربیتی معیار اور اخلاقی رویے پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
اس حوالے سے ایئر انڈیا نے ایک روایتی بیان جاری کیا کہ ہماری زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور “ہم حکام سے تعاون کریں گے” مگر یہی جملے ہم پہلے بھی کئی واقعات کے بعد سن چکے ہیں جب عملے کی لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ سامنے آیا۔
ایئر انڈیا کے ساتھ یہ پہلا مسئلہ نہیں حالیہ مہینوں میں تکنیکی خرابی، عملے کی بدسلوکی،جہاز کریش ہونا اور فلائٹ میں تاخیر جیسے کئی واقعات خبروں کا حصہ بن چکے ہیں۔
ان سب واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایئر انڈیا کو فوری اور سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے،قانون تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان قواعد پر مؤثر انداز میں عمل بھی ہوتا ہے؟
اگر ہر واقعے کے بعد صرف بیان جاری ہو تو مسافروں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟ ایئر انڈیا کی پروازوں میں بار بار بدانتظامی، غیر تربیت یافتہ عملہ اور حفاظتی اقدامات کی کمی اب ایک خطرناک معمول بنتی جا رہی ہے۔
مودی سرکارصرف جھوٹے بیانات اور دعوئوں تک محدود اور پاکستان سے جنگ کے میدان میں شکست کے بعد تومودی کےہوش ٹھکانے ہی نہیں وہ کسی محکمے یا ادارے پرتوجہ دیں ،حکومت کی ساری توجہ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے پر مذکور ہے تاہم پاکستان کا عالمی سطح پر وقار بلند ہورہا ہےجبکہ ہندوستان دن بدن پستی کی طرف جارہا ہے۔