ویب ڈیسک۔ پاکستان نے بھارت پر مغربی دریاؤں کے پانی کو “ہتھیار” بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مستقل ثالثی عدالت (PCA) میں تفصیلی تحفظات جمع کرا دیے ہیں، جسے اسلام آباد نے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے (IWT) کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی شکایت کا جائزہ لینے والی ثالثی عدالت کی “32 سپلیمنٹل ایوارڈ” کے مطابق، اسلام آباد نے بھارت کی پالیسی میں 23 اپریل 2025 کے بعد نمایاں اور تشویشناک تبدیلیوں کی نشان دہی کی ہے۔
ایوارڈ کے مطابق کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 23 اپریل 2025 کے بعد بھارت کی معاہدے کو ’معطل‘ رکھنے کی پالیسی اور سرکاری بیانات نے اس نئے طرز عمل کے خطرات کو بڑھایا ہے، جس کے تحت بھارت ڈیمز کے ذریعے پاکستان کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹ یا بندش پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان نے وضاحت کی ہے کہ “ہتھیار بنانے” سے اس کی مراد تین ایسے بنیادی طریقے ہیں جن کے ذریعے بھارت مغربی دریاؤں کے بہاؤ پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، جو معاہدے کی ممکنہ خلاف ورزی ہے:
1. نیچے کی سطح پر زرعی آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا، جو کہ بڑے ذخائر اور دیگر تالابوں کو بھرنے کے ذریعے ہوتا ہے؛
2. ڈیم کے دروازے کھول کر ذخیرہ شدہ پانی کو اس طرح جاری کرنا جو نیچے کی جانب سیلاب کا سبب بنے؛
3. تیزی سے بڑی مقدار میں مٹی خارج کرنا، جس سے دریا، زمین، بنیادی ڈھانچہ اور نیچے کے علاقوں میں بسنے والے افراد متاثر ہوں۔
27 جون کو بین الاقوامی عدالت نے اس معاملے میں اپنی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا۔
عدالت نے متفقہ طور پر کہا: “بھارت کا یہ مؤقف کہ وہ معاہدے کو ’معطل‘ رکھے ہوئے ہے، چاہے اسے بین الاقوامی قانون کے تحت جیسے بھی بیان کیا جائے، ثالثی عدالت کی صوابدید کو ختم نہیں کرتا۔”
عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی “معطل” پالیسی محض الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ معاہدے کی ذمہ داریوں کو عملی طور پر نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایوارڈ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی ٹریبونل نے پاکستان کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کی معطل رکھنے کی پالیسی پر روشنی ڈالی ہے۔
عدالت نے پاکستان کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے مطابق، بھارتی حکام کے بیانات اور بھارتی میڈیا کی مہم نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ پانی کو ہتھیار بنانے کے امکانات اب محض مفروضہ نہیں رہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے مغربی دریاؤں کے بہاؤ کی نگرانی پر مبنی ڈیٹا بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
ایوارڈ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مطابق، 23 اپریل کو بھارت کی ‘معطل’ پالیسی کے اعلان کے بعد، یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ بھارت نے Annexure D کی شق 15 کی عملی حدود کو واضح طور پر اور دانستہ طور پر نظر انداز کرتے ہوئے نیچے کے علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔
اس مؤقف کے حق میں، پاکستان نے دریائے چناب کے پاکستانی حدود میں داخلے کے وقت کا ڈیٹا پیش کیا ہے، جو ہائیڈروگراف کی شکل میں ہے، اور جس میں پاکستان کے مطابق “دو نمایاں تبدیلی کے واقعات” دکھائے گئے ہیں ، ایک مئی کے آغاز میں اور دوسرا مئی کے آخر سے جون تک۔
پاکستان کا الزام ہے کہ ڈیٹا کا مزید تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تبدیلیاں بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر پانی کے بہاؤ میں مداخلت کا نتیجہ ہیں۔
ایوارڈ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان کے مطابق، ہائیڈروگراف میں دیکھی جانے والی یہ تبدیلیاں تقریباً یقیناً Baglihar HEP کے ذخیرے کے خالی کرنے اور بھرنے کا نتیجہ ہیں، جن میں 37.5Mm³ مختص پانی کے ساتھ ساتھ غالباً مردہ ذخیرہ بھی شامل تھا۔ مٹی کے ارتکاز میں اضافے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ ‘ڈراؤ ڈاؤن فلشنگ’ کے واقعات تھے۔”
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت سے وضاحت طلب کی، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
ایوارڈ کے مطابق: “پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس نے 27 مئی 2025 کو بھارتی ہم منصب کو ان تغیرات کی وضاحت کے لیے خط لکھا، لیکن پاکستان کے مطابق اس کی درخواست پر اس وقت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا جب تک کہ اس کی شکایت عدالت میں جمع نہ ہو گئی۔”
پاکستان کا حتمی تجزیہ بھارت کی نیت پر سوال اٹھاتا ہے، جس نے “معطل” رکھنے کی پالیسی کو اپنے اقدامات چھپانے کے لیے استعمال کیا۔
پاکستان کے مطابق: “یہ بات بالکل واضح ہے کہ بھارت کی معطل رکھنے کی پالیسی اب محض ایک پردہ ہے، جس کے پیچھے وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔”
ثالثی عدالت کی صدارت پروفیسر شان ڈی. مرفی (امریکہ) کر رہے ہیں، جب کہ دیگر ارکان میں پروفیسر واؤٹر بویترٹ (بیلجیم)، پروفیسر جیفری پی. مینیر (امریکہ)، جسٹس عون شوکت الخصاونی (اردن)، اور ڈاکٹر ڈونلڈ بلیک مور (آسٹریلیا) شامل ہیں۔